دنیا بھر کے ڈاکڑز حیران و پریشان؛ فرانس میں نئے بلڈ گروپ کی دریافت

تازہ ترین

تازہ ترین

(فوٹو؛ فائل)

فرانس میں خون کے ایک نایاب گروپ کی حیران کن دریافت ہوئی ہے جو طبی ماہرین کیلئے ایک نئی پیش رفت قرار دی جا رہی ہے۔ بلڈ ایجنسی EFS (ایtablissement Français du Sang) نے اعلان کیا ہے کہ گواڈی لوپ سے تعلق رکھنے والی ایک خاتون میں ایسا منفرد بلڈ گروپ پایا گیا ہے جو اس سے پہلے دنیا میں کبھی رپورٹ نہیں ہوا۔

اس نئی بلڈ ٹائپ کو ’Gwada نیگیٹو‘ کا نام دیا گیا ہے۔ یہ انکشاف اس وقت ہوا جب خاتون کی 15 سال پرانی خون کی رپورٹ، جو ایک سرجری کے دوران محفوظ کی گئی تھی، دوبارہ جانچ کے عمل سے گزری۔ ماہرین نے دیکھا کہ خاتون کے خون میں موجود اینٹی جن کسی بھی معروف بلڈ گروپ سے مماثلت نہیں رکھتا۔

دنیا میں عمومی طور پر چار بنیادی بلڈ گروپس (A, B, AB, O) پائے جاتے ہیں، جن کے ساتھ Rh فیکٹر (مثبت یا منفی) شامل ہوتا ہے، مگر خون کی شناخت صرف ان چند گروپس پر منحصر نہیں۔ ماہرین خون میں موجود اینٹی جنز کی بنیاد پر درجنوں مخصوص سسٹمز (جیسے Kell، Duffy، Kidd وغیرہ) کو بھی مدنظر رکھتے ہیں۔

فرانسیسی ادارے EFS کے مطابق، ’Gwada نیگیٹو‘ کی دریافت کے بعد دنیا میں تسلیم شدہ بلڈ گروپ سسٹمز کی مجموعی تعداد اب 48 ہو چکی ہے۔

طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ اس قسم کے نایاب بلڈ گروپس کی شناخت نہ صرف سائنسی طور پر اہم ہے بلکہ یہ خون کی منتقلی اور بعض پیچیدہ سرجریوں میں زندگی بچانے والا کردار بھی ادا کر سکتے ہیں، خاص طور پر ان مریضوں کے لیے جنہیں مخصوص قسم کا خون درکار ہوتا ہے۔

Related Posts