عراق کے وزیرِاعظم محمد شیاع السودانی نے عرب اور اسلامی ممالک کے لیے نیٹو طرز کے اجتماعی دفاعی نظام کی تشکیل کی تجویز پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر کسی ایک عرب یا اسلامی ملک پر حملہ ہوتا ہے تو اسے تمام ممالک پر حملہ تصور کیا جائے۔
عرب اسلامی ہنگامی سربراہی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے السودانی نے کہا کہ کسی بھی اسلامی یا عرب ریاست کی سلامتی اور استحکام پورے خطے کی اجتماعی سلامتی کا لازمی جزو ہے۔
انہوں نے ایک مشترکہ عرب اسلامی کمیٹی بنانے کی بھی تجویز دی جو سلامتی کونسل اور دیگر بین الاقوامی اداروں تک خطے کے متفقہ موقف کو پہنچائے۔ ان کے مطابق یہ ایک حقیقی موقع ہے کہ عالمی برادری کو یہ واضح پیغام دیا جائے کہ اسلامی ممالک کی سلامتی کسی سودے بازی کے تحت نہیں دی جا سکتی۔
عراقی وزیرِاعظم نے اجلاس کے شرکاء پر زور دیا کہ وہ قطر پر حملے کی کھل کر مذمت کریں اور ایک متحدہ عرب و اسلامی موقف اپنائیں۔
انہوں نے حملے کو ”تمام حدود سے تجاوز اور بنیادی انسانی اصولوں کی خلاف ورزی“ قرار دیا اور ساتھ ہی انہوں نے فوری جنگ بندی کے لیے ایک جامع روڈ میپ تیار کرنے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔
السودانی نے خبردار کیا کہ اگر اسرائیل کو نہ روکا گیا تو یہ اقدام خطے میں مزید عدم استحکام کو جنم دے گا اور کسی بھی فریق کے لیے سلامتی کی ضمانت نہیں بن سکے گا۔
عرب اسلامی سربراہی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے مصری صدر عبدالفتاح السیسی نے کہا ہے کہ خطہ سنگین چیلنجز سے دوچار ہے اور حالیہ اسرائیلی اقدامات نے تمام سفارتی و عسکری حدود کو پامال کر دیا ہے۔ ان کے بقول اسرائیل کی جارحیت تمام سرخ لکیریں عبور کر چکی ہے۔
صدر السیسی نے کہا کہ یہ اجلاس ایک نازک وقت پر منعقد ہوا ہے، جب پورا خطہ غیر معمولی مشکلات کا سامنا کر رہا ہے۔ انہوں نے واضح الفاظ میں کہا کہ اسرائیلی جارحانہ پالیسیوں کی کوئی منطق باقی نہیں رہی اور یہ طرزِ عمل علاقائی امن و استحکام کے لیے تباہ کن ہے۔
صدر السیسی نے قطر پر حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ مصر ہر سطح پر اسرائیلی جارحیت کو مسترد کرتا ہے۔ انہوں نے عالمی برادری پر زور دیا کہ اسرائیلی اقدامات کو روکنے کے لیے فوری اور مؤثر اقدامات کیے جائیں تاکہ خطے کو مزید تباہی اور عدم استحکام سے بچایا جا سکے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








