واشنگٹن:سابق امریکی صدرڈونلڈ ٹرمپ نے عدالت سے استدعا کی ہے کہ جو فائلیں ان کی رہائش گاہ سے ضبط کی گئی ہیں، محکمہ انصاف کو اس کی تفتیش سے باز رکھا جائے۔ ان کے وکلا نے مار-اے-لاگو سے برآمد کی گئی ہر چیز کی رسید بھی طلب کی ہے۔
بین الاقوامی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے عدالت سے کہا کہ دو ہفتے قبل ان کی ذاتی رہائش گاہ مار-اے-لاگو سے جو دستاویزات ضبط کی گئی تھیں، ایف بی آئی کو اس کا جائزہ لینے سے اس وقت تک کے لیے روک دیا جائے، جب تک کہ اس عمل کی نگرانی کے لیے کسی غیر جانبدار تیسرے فریق، وکیل، یا خصوص محکم کا تقرر نہ کر دیا جائے۔
ٹرمپ کے وکلا نے یہ کیس دائر کرتے ہوئے دلیل پیش کی کہ مذکورہ دستاویزات ”ممکنہ طور پر” ایگزیکٹو استحقاق کا احاطہ کرتی ہیں۔ اس اصول کے تحت امریکی صدور کو اپنے بعض مواصلات کو عوام میں انکشاف نہ کرنے کی اجازت ہے۔
ٹرمپ کے وکلا نے اسی مقدمے میں عدالت سے یہ مطالبہ بھی کیا کہ 8 اگست کو ایف بی آئی نے مار-اے-لاگو سے جو بھی چیزیں ضبط کی تھیں ان تمام اشیا کی نمبر کے ساتھ رسید بھی فراہم کی جائے۔ انہوں نے ضبط شدہ ایسی تمام اشیا کو واپس کرنے کا بھی مطالبہ کیا ہے جو تفتیش کے دائرہ کار سے باہر ہوں۔
مزید پڑھیں:معاہدہ قبول نہیں، ایران کو ہر صورت جوہری صلاحیت حاصل کرنے سے روکیں گے، اسرائیل
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








