سابق صدر کی انتخابی مہم، جلسے کے دوران فائرنگ، ڈونلڈ ٹرمپ زخمی

تازہ ترین

تازہ ترین

ٹرمپ
(فوٹو: آر ٹی ایل)

واشنگٹن: امریکی ریاست پنسلوینیا کے علاقے بٹلر میں سابق صدر کی انتخابی مہم کے جلسے کے دوران فائرنگ ہوئی جس کے نتیجے میں سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ زخمی ہوگئے ہیں۔

تفصیلات کے مطابق حملہ آور نے مبینہ طور پر ڈونلڈ ٹرمپ کی جان لینے کی کوشش کی تاہم ڈونلڈ ٹرمپ حملے کے دوران معمولی زخمی ہوئے ہیں۔ جوابی فائرنگ سے حملہ آور بھی ہلاک ہوگیا۔ واقعے کے نتیجے میں ایک اور شخص کی بھی ہلاکت ہوئی ہے۔

فائرنگ کے وقت ڈونلڈ ٹرمپ بٹلر میں شرکائے ریلی سے خطاب کر رہے تھے اور بین الاقوامی میڈیا پر سامنے آنے والی تصاویر سے ظاہر ہوتا ہے کہ گولی ڈونلڈ ٹرمپ کے کان کو چھوتی ہوئی نکل گئی جس سے خون نکل کر سابق صدر کے چہرے پر لکیر بناتا نظر آتا ہے۔

تقریر کے دوران فائرنگ کی آواز سنتے ہی ڈونلڈ ٹرمپ نیچے جھک گئے تھے۔ اسی دوران ریلی میں بھگدڑ مچ گئی۔ سابق صدر کھڑے ہوئے، مکا ہوا میں لہرایا جب ان کے دائیں کان پر گولی کے نشانات نظرآرہے ہیں۔ سیکرٹ سروس کے اہلکاروں نے ڈونلڈ ٹرمپ کو حصار میں لے لیا۔

فائرنگ کے بعد ریلی فوری طور پر ختم ہوگئی اور سابق صدر بھی جائے وقوعہ سے سیکرٹ سروس اہلکاروں کے ہمراہ روانہ ہوگئے۔ کاؤنٹی پراسیکیوٹر کا کہنا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ کو ایک گولی لگی ہے۔ ریلی میں جس رائفل سے فائرنگ کی گئی تھی، وہ برآمد کرلی گئی ہے۔

حملہ آور کون تھا؟

امریکی حکام نے تاحال حملہ آور کی شناخت ظاہر نہیں کی۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق فائرنگ کے وقت ماہر نشانے باز حملہ آور نے اسٹیج سے کئی سو گز دور ہونے کے باوجود سابق صدر کا بالکل درست نشانہ لیا، تاہم ڈونلڈ ٹرمپ جھک جانے کے باعث گولی سے محفوظ رہے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق ریلی میں ایک اور شخص ہلاک جبکہ ایک اور شدید زخمی ہوگیا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ کا مقامی طبی مرکز میں چیک اپ مکمل ہوچکا ہے اور ان کو ہسپتال سے ڈسچارج کردیا گیا ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ اس وقت بالکل محفوظ ہیں۔

ڈونلڈ ٹرمپ کا بیان

بی بی سی کے مطابق ڈونلڈ ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر جاری بیان میں کہا کہ گولی میرے دائیں کان کے اوپری حصے میں لگی، فوری طور پر محسوس ہوا کہ مجھے کچھ ہوا ہے۔ جب بہت زیادہ خون بہنے لگا تو مجھے احساس ہوا کہ کیا ہوا ہے۔ امریکا میں ایسی حرکت ناقابلِ یقین ہے۔

سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ اس وقت میں گولی چلانے والے کے بارے میں کچھ نہیں جانتا۔ قانون نافذ کرنے والوں کا شکر گزار ہوں کہ انہوں نے فائرنگ کے گھناؤنے عمل کے دوران فوری طور پر حفاظتی اقدامات اٹھائے۔

Related Posts