امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ پیر کے روز ایئر فورس ون کے ذریعے اسرائیل کے دارالحکومت تل ابیب پہنچ گئے، جہاں ان کا ریڈ کارپٹ استقبال اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو اور صدر اسحاق ہرزوگ نے کیا۔
ان کی آمد کے چند گھنٹے بعد غزہ سے دو سال بعد اسرائیلی یرغمالیوں کا پہلا گروپ وطن واپس لوٹ آیا جسے خطے میں ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
ایئر فورس ون میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے روانگی سے قبل اعلان کیا کہ غزہ کی جنگ ختم ہو چکی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ اب وقت ہے کہ خطے میں پائیدار امن کی راہ ہموار کی جائے۔ ٹرمپ کا کہنا تھاکہ جنگ ختم ہو گئی ہے، سب اس حقیقت کو سمجھ لیں۔
جب ان سے جنگ بندی کے تسلسل سے متعلق سوال کیا گیا تو انہوں نے کہاکہ مجھے یقین ہے کہ یہ جنگ بندی برقرار رہے گی کیونکہ لوگ اب تھک چکے ہیں۔ یہ صدیوں سے جاری مسئلہ ہے۔
صدر ٹرمپ اپنے دورۂ اسرائیل کے دوران حماس کے ہاتھوں یرغمال بنائے گئے افراد کے اہلِ خانہ سے ملاقات کریں گے اور پھر یروشلم میں اسرائیلی پارلیمان سے خطاب کریں گے۔
بعد ازاں وہ مصر روانہ ہوں گے، جہاں وہ مصری صدر عبدالفتاح السیسی کے ہمراہ بیس سے زائد عالمی رہنماؤں کے امن اجلاس کی میزبانی کریں گے۔
یہ اجلاس غزہ جنگ کے خاتمے اور مشرقِ وسطیٰ میں امن کے فروغ کے لیے صدر ٹرمپ کے 20 نکاتی امن منصوبے کے تسلسل میں بلایا گیا ہے، جس کا اعلان ستمبر کے آخر میں کیا گیا تھا۔
واشنگٹن سے روانگی سے قبل ٹرمپ نے کہا کہ یہ لمحہ تاریخ کا ایک خاص موڑ ہے، ہر کوئی اس امن معاہدے سے پرجوش ہے۔
ان کے ہمراہ اہم امریکی عہدیداران بھی موجود تھے، جن میں وزیر خارجہ مارکو روبیو، وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ، سی آئی اے کے سربراہ جان ریٹکلف اور فوج کے اعلیٰ کمانڈر جنرل ڈین کین شامل ہیں۔
صدر ٹرمپ کے اس امن مشن کے سامنے کئی غیر یقینی معاملات موجود ہیں، جن میں حماس کی غیر مسلح ہونے سے انکار اور اسرائیل کی جانب سے مکمل فوجی انخلا کی عدم یقین دہانی شامل ہیں۔
ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ انہیں دونوں فریقوں اور علاقائی طاقتوں کی جانب سے زبانی ضمانتیں ملی ہیں۔ ان کا کہنا تھاکہ میرے پاس بہت سی یقین دہانیاں ہیں اور میں نہیں سمجھتا کہ کوئی فریق مجھے مایوس کرے گا۔
انہوں نے مزید کہا کہ ان کے اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کے ساتھ تعلقات “بہت اچھے ہیں، اگرچہ ماضی میں چند اختلافات ضرور رہے جو جلد حل کر لیے گئے۔
صدر ٹرمپ نے اعلان کیا کہ غزہ کے لیے نیا انتظامی ڈھانچہ جلد قائم کیا جائے گا، جسے وہ خود براہِ راست نگرانی میں چلائیں گے۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ وہ مستقبل میں غزہ کا دورہ کرنے کے خواہاں ہیں تاہم سیکورٹی وجوہات کے باعث تاریخ واضح نہیں کی۔
انہوں نے کہاکہ میں غزہ کی سرزمین پر اپنے قدم ضرور رکھنا چاہتا ہوں، یہ میرے لیے باعثِ فخر ہوگا۔
ٹرمپ نے یہ بھی عندیہ دیا کہ سابق برطانوی وزیر اعظم ٹونی بلیئر کو امن عمل میں شامل کرنے کا فیصلہ ابھی حتمی نہیں کیونکہ مشرقِ وسطیٰ میں ان کی سابقہ پالیسیوں پر اختلافات موجود ہیں۔
ان کا کہنا تھاکہ میں ٹونی کو پسند کرتا ہوں، لیکن فیصلہ کرنے سے پہلے دیکھنا ہوگا کہ وہ سب کے لیے قابلِ قبول ہیں یا نہیں۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








