حلال فوڈ نہیں بیچتے؟ لندن میں بھارتی ریسٹورنٹ کے سکھ مالک کی گرفتاری کی کہانی جانیں

تازہ ترین

تازہ ترین

برطانوی پولیس نے بھارتی ریسٹورنٹ رنگریز کے مالک ہرمن سنگھ کپور کو گرفتار کر لیا ہے جو گزشتہ کئی مہینوں سے سوشل میڈیا پر مسلمانوں کے خلاف متنازع بیانات اور حلال خوراک سے متعلق پوسٹس کی بنا پر تنازع کا مرکز بنے ہوئے تھے۔

حکام کے مطابق گرفتاری ایسے حالات میں عمل میں آئی جب ان کے خلاف آن لائن تنقید اور وفاقی احتجاج نے شدت اختیار کر لی تھی اور کئی افراد ریسٹورنٹ کے باہر جمع ہو کر احتجاج کرنے لگے تھے۔

ریسٹورنٹ کے باہر مظاہرین اور اہل کاروں کے درمیان ٹکراؤ کے بعد برطانوی پولیس نے امن و امان برقرار رکھنے کے لیے ہرمن سنگھ کپور کو حراست میں لے لیا۔

متنازع پوسٹس اور آن لائن جھگڑے

ذرائع کے مطابق کپور نے سوشل میڈیا پر متعدد مواقع پر ایسی پوسٹس شیئر کیں جنہیں بہت سے صارفین نے اشتعال انگیز اور مذہب مخالف قرار دیا۔ انہوں نے خاص طور پر حلال گوشت نہ بیچنے اور مذہبی معاملات پر اپنے سخت موقف سے کئی لوگوں کو ناراض کیا جس کے باعث تنقید اور آن لائن لڑائی بڑھتی چلی گئی۔

ریسٹورنٹ بند کرنے کا اعلان

کچھ ہی روز قبل کپور نے اعلان کیا تھا کہ وہ 16 سال بعد اپنا ریسٹورنٹ بند کر رہے ہیں اور ساتھ ہی کہا تھا کہ وہ مسلسل ہراساں کیے جا رہے ہیں۔ انہوں نے الزام لگایا تھا کہ ان کے کاروبار کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔

رپورٹس کے مطابق رنگریز ریسٹورنٹ پچھلے کئی مہینوں سے مشکلات کا شکار تھا۔ کپور نے اسلام اور مسلمانوں پر حملے کے انداز میں تنقید کرکے اینٹی مسلم صارفین کو اپنی طرف متوجہ کرنے کی کوشش کی لیکن یہ حکمت عملی ان کے کاروبار کے لیے نقصان دہ ثابت ہوئی۔

یہ معاملہ اس وقت شروع ہوا جب ریسٹورنٹ نے اپنے باہر بورڈز لگائے جن پر ہم حلال نہیں بیچتے جیسے الفاظ تھے۔ ان بورڈز کو کئی لوگوں نے متنازع اور اشتعال انگیز قرار دیا کیونکہ انہیں مذہبی نقطۂ نظر سے حساس سمجھا گیا۔

اب تک برطانوی پولیس کی جانب سے گرفتاری پر کوئی رسمی بیان جاری نہیں ہوا تاہم کچھ ذرائع کا کہنا ہے کہ کپور کے خلاف ویڈیو میں ہتھیار دکھانے اور عوامی طور پر دھمکی آمیز بیانات دینے کے واقعات بھی سامنے آئے تھے جس کی بنا پر پولیس نے انہیں حراست میں لیا۔

پولیس نے احتجاج کے دوران حاصل ہونے والی تصاویر اور عوامی فوٹیج کی چھان بین شروع کر دی ہے اور موقع پر موجود دیگر افراد سے تفتیش جاری ہے تاکہ واقعے کی مکمل حقیقت سامنے آ سکے۔

Related Posts