وفاقی حکومت نے مٹی کے تیل (کیروسین آئل) کی قیمت میں 40 روپے فی لیٹر کا اضافہ کر دیا ہے جس کے بعد اب یہ سب سے مہنگا ایندھن بن گیا ہے اور اس کی قیمت 358 روپے فی لیٹر ہو گئی ہے۔
مٹی کا تیل جسے ہیٹنگ آئل بھی کہا جاتا ہے دور دراز علاقوں میں گھریلو استعمال کے لیے بڑے پیمانے پر استعمال ہوتا ہے خاص طور پر ایسے علاقوں میں جہاں ایل پی جی سلنڈرز دستیاب نہیں ہوتے۔
وفاقی حکومت نے پیٹرول اور ڈیزل پر پٹرولیم لیوی برقرار رکھنے کا بھی فیصلہ کیا ہے۔ اس کے تحت پیٹرول پر فی لیٹر لیوی 105 روپے 37 پیسے اور ڈیزل پر 55 روپے 24 پیسے فی لیٹر برقرار رہے گی۔
واضح رہے کہ حکومت نے 7 مارچ کو پٹرول کی قیمت میں بھی 55 روپے فی لیٹر اضافہ کیا تھا جس کے بعد یہ 321.17 روپے فی لیٹر سے زیادہ ہو گئی تھی جبکہ ڈیزل کی قیمت 335.86 روپے فی لیٹر تک پہنچ گئی تھی۔ اس اضافہ کو عالمی مارکیٹ میں بڑھتی ہوئی تیل کی قیمتوں اور مشرق وسطیٰ میں کشیدگی سے جوڑا جا رہا ہے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








