ڈاکٹر شاہد قریشی نے جامعہ اردو کا وائس چانسلر تعینات ہونے سے معذرت کر لی

تازہ ترین

تازہ ترین

جامعہ اردو کے اندر ایک ہفتہ میں تیسری بار اساتذہ لُٹ گئے
جامعہ اردو کے اندر ایک ہفتہ میں تیسری بار اساتذہ لُٹ گئے

کراچی : جامعہ اردو میں وائس چانسلر کیلئے نوٹی فائیڈ کئے جانے والے ڈاکٹر شاہد قریشی نے ایوان صدر کو خط لکھ کر جامعہ اردو میں بطور وائس چانسلر چارج لینے سے معذرت ظاہر کر دی ہے ، جس کے بعد بیرون ملک میں مقیم دوسرے نمبر کے امیدوار ڈاکٹر اطہر عطا سے رابطہ کر لیا گیا ہے ۔ جن کو جامعہ اردو میں وائس چانسلر تعینات کئے جانے کے امکانات ظاہر کئے جا رہے ہیں ۔

جامعہ اردو میں مستقل وائس چانسلر کیلئے قائم ہونے والی سرچ کمیٹی کی جانب سے اپنی سفارشات سینیٹ کو دی تھیں ، جس کے بعد سینیٹ اراکین نے 27 جولائی کو تین نام فائنل کر کے ایوان صدر کو ارسال کئے تھے ، ان تین ناموں میں پہلے نمبر پر آئی بی اے کے ایسوسی ایٹ پروفیسر ڈاکٹر شاہد قریشی، دوسرے نمبر ڈاکٹر اطہر عطا (کینیڈا) تیسرے نمبر پرپروفیسر ظفر اللہ قریشی شامل تھے ، جن کے بعد 14 ستمبر کو صدر پاکستان ڈاکٹر عارف علوی کی جانب سے بذریعہ ٹویٹ جامعہ اردو کو خوش خبری دی گئی تھی کہ جامعہ اردو کو مستقل وائس چانسلر ڈاکٹر شاہد قریشی کی صورت میں دے دیا گیا ہے ۔

تاہم اس کے بعد ڈاکٹر شاہد قریشی کے خلاف جامعہ اردو شعبہ سائنس کے ڈین ڈاکٹر زاہد نے عدالت سے رجوع کر کے حکم امتناع حاصل کر لیا تھا ، جو بعد ازاں واپس لے لیا گیا تھا ۔ تاہم اس دوران ڈاکٹر شاہد نے آئی بی اے میں ترقی پا لی اور لاہور کی ایک نجی جامعہ میں بطور وائس چانسلر تعیناتی کی راہیں بھی ہموار کر لیں تھیں ، جس کی وجہ سے انہوں نے رواں ہفتے ایوان صدر خط کو باقاعدہ خط لکھ کر جامعہ اردو میں وائس چانسلر تعیناتی سے معذوری ظاہر کر دی ہے ۔ جس کے بعد جامعہ اردو کی انتظامیہ اور اساتذہ کی جانب سے ایوان صدر سے کسی نئے جواب کا انتظار کیا جارہا ہے ، جس میں امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ ایوان صدر سے دوسرے نمبر کے امیدوار ڈاکٹر اطہر عطا سے رابطہ کر لیا گیا ہے اور قوی امکان ہے کہ ایوان صدر سے دوسرے امیدوار کو بطور وائس چانسلر تعیناتی کا نوٹی فکیشن جاری کر دیا جائے ۔

معلوم رہے کہ دوسرے نمبر کے امیدوار کے آنے کے بعد بھی جامعہ اردو میں وائس چانسلر شپ متازعہ رہے گی ، کیوں کہ اعلی ترین عہدوں پر دہری شہریت کے حامل افسران کی تعیناتی سپریم کورٹ کے احکامات کے مطابق ممنوع ہے ، جب کہ جامعہ اردو کے کوڈ کے مطابق کسی ایک امیدوار کی تعیناتی کا لیٹر جاری ہونے کے بعد دوسرے نمبر کے امیدوار کی تعیناتی اسی پینل سے نہیں کی جا سکتی ہے ۔

رولز کے مطابق وائس چانسلر کیلئے امیدواروں کے ٹیسٹ اور انٹرویو لینے کے بعد سرچ کمیٹی عملی طو رپر ختم ہو گئی ہے ، جس کے بعد معاملہ سینیٹ اور ایوان صدر کے پاس چلا گیا تھا ، جب ایوان صدر سے پہلے نمبر کے امیدوار کی تعیناتی کا نوٹی فکیشن جاری کر دیا گیا، اور پہلے کی جانب سے جوائننگ سے معذرت کرنے کی صورت میں رولز کے مطابق بقیہ دو کا پینل مکمل نہیں رہتا ، اس لئے کسی ناگہانی صورت میں دو کا پینل نامکمل ہونے کی صورت میں دوبارہ سینیٹ تین نام بھیجے گی اور اس کے بعد تینوں میں ایک نام کا انتخاب کیا جاے گا ۔ ماہرین کا خیال ہے کہ رولز کے مطابق صدر پاکستان نے اگر تینوں میں کوئی لیٹر جاری نہیں ہوتا تو اس صورت میں صدر پاکستان تینوں ناموں کی سمری واپس سینیٹ کو ریفر بیکـ کر دیتے جس کے بعد دوبارہ تین نام منگوائے جاتے ،اور ان میں کسی کا چناؤ کیا جا سکتا تھا ۔

حیران کن امر یہ ہے کہ صدر پاکستان اور سینیٹ کی جانب سے سیاسی بنیادوں پر قائم کردہ سرچ کمیٹی میں ایسے افراد کو شامل کیا گیا جو کسی بھی لحاظ سےسرچ کمیٹی کے ممبر بننے کے اہل نہیں تھے ، سرچ کمیٹی کے کنوینیئر زوہیر رشید سے لیکر واجد جواد اور ڈپٹی چیئر سینیٹ اے کیو خلیل تک تینوں اراکین ماہرین تعلیم نہیں ہیں اور تعلیمی ادارے کے سربراہ کے چنائو کرنے کی اہلیت ان کو سونپی گئی ، بعد ازاں اس سرچ کمیٹی میں اساتذہ نمائندوں کے علاوہ این ای ڈی کے وائس چانسلر کو شامل کیا گیا تھا جس کے باوجود 2 برس کا عرصہ اور 22 لاکھ کے اخراجات کرنے کے بعد سرچ کمیٹی نے ایسوسی ایٹ پروفیسر کو پہلے نمبر پر اور دہری شہریت کے حامل شخص کو دوسرے نمبر کا امیدوار بنا دیا تھا ۔واضح رہے کہ دہری شہریت کے حامل کسی بھی افسر کو اپنے اصلی ڈیپارٹمنٹ سے لی اون پر پاکستان نوکری کیلئے آنے کی ہی اجازت ہے ۔

اساتذہ کا کہنا ہے کہ صدر پاکستان کی بنائی گئی سرچ کمیٹی اب مذید تنازعہ ہو چکی ہے،لہذاہ اس سرچ کمیٹی کو سزاد ی جانی چاہئے کہ انہوں نے کیسے غیر ذمہ دار افراد کو منتخب کیا جو جوائن کرنے کیلئے تیار نہیں ہے ؟۔اور سرچ کمیٹی نے کمزور ٹی او آر ز بنائے جس کی وجہ سے ایسوسی ایٹ پروفیسر کو بھی وائس چانسلر بننے کا اہل قرار دیا گیا تھا ۔

اس حوالے سے ایم ایم نیوز کے رابطہ کرنے پر آئی بی اے کے استاد اور امیدوار برائے وائس چانسلر جامعہ اردو ڈاکٹر شاہد قریشی نے تصدیق کی کہ میں نے ایوان صدر خط لکھ دیا ہے اور بطور وائس چانسلر اپنی تعیناتی سے معذوری ظاہر کی ہے ۔معلوم ہوا ہے کہ ڈاکٹر شاہد قریشی لاہور کی کسی نجی جامعہ میں بطور وائس چانسلر تعیناتی کی تیاری کر رہے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں : مفتی طارق مسعود ،انجنیئر محمد علی مرزا سے مناظرے کے لیے جہلم پہنچ گئے

Related Posts