پولیس نے حال ہی میں گرفتار ہونے والی ڈرگ ڈیلر پنکی کے خلاف مقدمہ درج کرلیا ہے، کمسنی سے ہی منشیات فروشی کرنے والی ملزمہ کے اداکاری کے شوق سمیت دیگر حقائق بھی سامنے آگئے۔
تفصیلات کے مطابق کراچی پولیس نے پنکی کی نشاندہی پر اس کے فلیٹ پر چھاپہ مار کر منشیات برآمد کیں۔ ساؤتھ پولیس کا کہنا ہے کہ ملزمہ انمول عرف پنکی کے باتھ روم سے لاکھوں روپے مالیت کی کوکین برآمد کی گئی ہے۔ تفتیشی افسر مثل خان نے سچل تھانے میں کوکین برآمدگی کا مقدمہ درج کروایا۔
مقدمے کے متن میں کہا گیا کہ ملزمہ نے بتایا کہ وہ کوکین اور دیگر منشیات برآمد کروا سکتی ہے اور اس نے اپنے ذاتی فلیٹ میں منشیات چھپا رکھی ہیں۔ پولیس پارٹی منشیات برآمدگی کیلئے ملزمہ کے ساتھ روانہ ہوئی۔ کمپلیکس کے کمپاؤنڈ میں پہنچ کر ملزمہ پنکی نے آواز دے کر پولیس موبائل رکوا دی۔
متن میں کہا گیا کہ ہمارے آگے چل کر ملزمہ فلیٹ تک گئی جس پر تالہ لگا ہوا تھا جسے پولیس نے توڑ دیا۔ پنکی ہمیں فلیٹ کے باتھ روم تک لے گئی جہاں سے پلاسٹک کی مختلف تھیلیوں میں موجود کوکین برآمد کروائی۔ 3تھیلیوں میں موجود کوکین کا وزن 228گرام ہے۔
ایف آئی آر کے مطابق منشیات کی 7خالی ڈبیہ بھی برآمد کی گئیں۔ ملزمہ نے تسلیم کیا کہ یہ منشیات اس کی ہیں۔ ملزمہ کے خلاف منشیات ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کرلیا گیا۔ دوسری جانب ملزمہ کے خلاف مکمل تحقیقاتی رپورٹ کی تفصیلات بھی سامنے آگئی ہیں۔
تحقیقاتی رپورٹ
تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق ملزمہ انمول پنکی کا کہنا ہے کہ رانا ناصر اور رانا اکرم میرے سابق شوہر ہیں اور دونوں پولیس افسر تھے۔ میں نے ابتدائی تعلیم گورنمنٹ گرلز ہائی اسکول سہراب گوٹھ کراچی سے حاصل کی۔ میں ماڈلنگ اور اداکاری کے شوق میں 2006 میں لاہور شفٹ ہوئی تھی۔ مینار پاکستان پر عاشی نامی لڑکی سے ملاقات ہوئی، بعد میں اس کے ساتھ رہنے لگی۔
انمول پنکی نے اپنے بیان میں کہا کہ میں اداکاری اور ماڈلنگ کے شوق میں فلموں کے ڈائریکٹرز کے دفاتر میں آتی جاتی رہی۔ سابق پولیس افسر رانا ناصر سے ملاقات بھی ایک فلم ڈائریکٹر کے آفس میں ہوئی۔ رانا ناصر نے مجھے اپنے منشیات فروش گینگ کا حصہ بنایا۔ رانا ناصر کے ذریعے اس کے گروپ ممبر بوبی اور کرن سے ملاقات ہوئی۔
پنکی کا اپنے بیان میں کہنا ہے کہ میں 2024 میں سی آئی اے لاہور کے ہاتھوں گرفتار ہوئی لیکن سی آئی اے نے گرفتاری کے بعد ہم سے 2گاڑیاں اور 50 لاکھ روپے رشوت لی۔ رانا ناصر کیلئے کام کے دوران منشیات بریف کیس میں رکھ کر کراچی کے ڈرگ ڈیلر اقبال عرف بالا کو پہنچاتی تھی۔ رانا ناصر کا نیٹ ورک کراچی، لاہور اور راولپنڈی تک پھیلا ہوا ہے۔ مجھے کراچی کا انچارج بنایا گیا تھا۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








