صرف 2سال میں 55 فیصد ادویات کی قیمتوں میں اضافہ ہوا، سروے رپورٹ

تازہ ترین

تازہ ترین

ادویات
(فوٹو: پکسابے)

ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی پاکستان (ڈریپ) نے نان اسینشل ادویات کی ڈی ریگولیشن کے بعد قیمتوں میں ہونے والی تبدیلیوں کے حوالے سے دوسرا تفصیلی سروے مکمل کر لیا ہے جس میں انکشاف کیا گیا کہ صرف 2 سال میں 55فیصد ادویات کی قیمتوں میں اضافہ ہوا۔

رپورٹ کے مطابق نہ صرف گزشتہ دو سال کے عرصے میں 55 فیصد ادویات کی قیمتوں میں اضافہ دیکھا گیا بلکہ اسی مدت میں 42 فیصد ادویات سستی بھی ہوئیں۔ اس کے برعکس تقریباً 2.27 فیصد ادویات کی قیمتیں جوں کی توں برقرار رہیں اور ان میں کوئی تبدیلی نہیں ہوئی۔

سرکاری ذرائع کے مطابق پہلے اور دوسرے سروے کی مکمل رپورٹس آئندہ ہفتے وزیراعظم کو پیش کیے جانے کا امکان ہے۔ یاد رہے کہ نگران حکومت کے دور میں نان اسینشل ادویات پر قیمتوں کا حکومتی کنٹرول ختم کر دیا گیا تھا، جس کے بعد دوا ساز کمپنیوں کو اپنی مصنوعات کی قیمتیں خود مقرر کرنے کی اجازت مل گئی۔

وزیر اعظم کی خصوصی ہدایت پر ابتدائی مرحلے میں 100 نان اسینشل برانڈز کا جائزہ لیا گیا تھا۔ بعد ازاں دوسرے مرحلے میں ڈریپ نے 500 مختلف نان اسینشل برانڈز سے تعلق رکھنے والی 700 سے زائد ادویات کی قیمتوں کا تفصیلی تجزیہ کیا۔

دوسرے سروے کیلئے ملک کے بڑے شہروں کو منتخب کیا گیا جن میں کراچی، لاہور، کوئٹہ، پشاور، اسلام آباد، فیصل آباد اور ملتان شامل ہیں۔ ان شہروں میں 192 فارمیسیز اور میڈیکل اسٹورز پر دستیاب ادویات کی قیمتوں کا باقاعدہ موازنہ کیا گیا تاکہ حقیقی مارکیٹ صورتحال سامنے آ سکے۔

ذرائع کے مطابق ادویات کی قیمتوں سے متعلق تھرڈ پارٹی سروے بھی جلد وفاقی کابینہ میں پیش کیے جانے کا امکان ہے۔ اس کے بعد یہ فیصلہ کیا جائے گا کہ نان اسینشل ادویات کی ڈی ریگولیشن جاری رکھی جائے یا دوبارہ کسی حد تک حکومتی کنٹرول بحال کیا جائے۔ تاہم لائف سیونگ اسینشل ادویات اب بھی حکومتی نگرانی میں ہیں اور ان کی قیمتوں کا تعین سالانہ مہنگائی کی شرح کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا جاتا ہے۔

Related Posts