پاکستان کرکٹ بورڈ نے ڈوپ ٹیسٹ مثبت آنے پر آل راؤنڈر محمد نواز کے خلاف تادیبی کارروائی کا آغاز کر دیا ہے جس کے بعد معاملہ سنجیدہ صورت اختیار کر گیا ہے۔
بدھ کے روز سامنے آنے والی تفصیلات کے مطابق انٹرنیشنل کرکٹ کونسل نے باضابطہ طور پر ٹیسٹ کے نتائج پی سی بی کو ارسال کیے جس کے بعد بورڈ نے اپنے اندرونی ضابطہ کار کے تحت کارروائی شروع کر دی۔ متعلقہ نمونہ رواں سال ہونے والے ٹی20 ورلڈ کپ کے دوران لیا گیا تھا۔
پی سی بی کے ترجمان نے ای ایس پی این انفو سے گفتگو کرتے ہوئے اس پیش رفت کی تصدیق کی اور بتایا کہ آئی سی سی نے اس معاملے سے آگاہ کر دیا ہے جس کے بعد بورڈ نے ضروری کارروائی شروع کر دی ہے اور اس عمل کے نتائج آج آئی سی سی کو ارسال کیے جائیں گے۔
ذرائع کے مطابق 32 سالہ محمد نواز کا ٹیسٹ سری لنکا میں منعقدہ ٹورنامنٹ کے دوران لیا گیا تھا جہاں پاکستان ٹیم سپر ایٹ مرحلے تک رسائی کے بعد باہر ہو گئی تھی۔ اس ایونٹ میں بائیں ہاتھ کے اسپنر نے تمام سات میچز کھیلے، 15 رنز بنائے اور سات وکٹیں حاصل کیں۔
دوسری جانب ایک اہم پیش رفت میں انگلش کاؤنٹی ٹیم سرے کاؤنٹی کرکٹ کلب نے بھی ڈوپنگ کے معاملے کے سامنے آنے کے بعد محمد نواز کے ساتھ اپنا معاہدہ ختم کر دیا ہے۔
محمد نواز نے حال ہی میں پی سی بی سے ٹی20 بلاسٹ میں شرکت کے لیے این او سی حاصل کیا تھا، جو 26 مئی سے 18 جولائی تک شیڈول ہے اور امکان تھا کہ انہیں اسی ہفتے سرے کی اسکواڈ کا حصہ بنایا جائے گا۔
محمد نواز پاکستان کی ٹی20 ٹیم کے مستقل رکن رہے ہیں اور اب تک 98 ٹی20 انٹرنیشنل میچز میں قومی ٹیم کی نمائندگی کر چکے ہیں۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








