ایرانی حملے میں دبئی کا مسافر طیارہ تباہ؟ کون کون سوار تھا ؟ جانیں مکمل حقیقت

تازہ ترین

تازہ ترین

(فوٹو؛ اسکرین گریب)

سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ایک ویڈیو سے متعلق دعویٰ کیا گیا تھا کہ تل ابیب ایئرپورٹ کے قریب رہائشی علاقے میں دبئی کا ایئر بس A380 طیارہ ایرانی میزائل حملے کے باعث تباہ ہو گیا ہے تاہم فیکٹ چیکنگ کے بعد یہ دعویٰ مکمل طور پر جھوٹا ثابت ہوا ہے۔

آئی ویریفائی پاکستان کی ٹیم نے اس ویڈیو کا تفصیلی تجزیہ کیا جس میں فرانزک جانچ اور معتبر بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کا بھی جائزہ شامل تھا۔ تحقیقات کے مطابق یہ ویڈیو حقیقت پر مبنی نہیں بلکہ مصنوعی ذہانت (AI) کے ذریعے تیار کی گئی ہے اور کسی بھی ایسے فضائی حادثے کی تصدیق نہیں ہو سکی۔

یہ ویڈیو 6 اپریل 2026 سے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر مختلف اکاؤنٹس کے ذریعے شیئر کی جا رہی تھی جن میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ ایک ڈبئی ایئر بس A380 تل ابیب کے قریب رہائشی علاقے میں ایرانی میزائل حملے کے نتیجے میں گر کر تباہ ہوا تاہم تحقیق سے واضح ہوا کہ ایسا کوئی واقعہ پیش نہیں آیا۔

ابتدائی پھیلاؤ

6 اپریل کو ایک پرو ایران اکاؤنٹ نے ایکس پر یہ ویڈیو شیئر کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ یہ ایک ایئر بس A380 حادثہ ہے جو رہائشی علاقے میں پیش آیا۔ پوسٹ میں کہا گیا کہ بریکنگ: دبئی کا طیارہ جس میں مبینہ طور پر اسرائیلی فوجی سوار تھے تل ابیب ایئرپورٹ کے قریب گر کر تباہ ہو گیا اور تمام افراد ہلاک ہو گئے جبکہ طیارہ مبینہ طور پر ایرانی ہائپرسونک میزائل کے ٹکڑے سے متاثر ہوا۔

یہ پوسٹ لاکھوں ویوز حاصل کرنے میں کامیاب رہی جبکہ اسی نوعیت کی دیگر پوسٹس بھی ہزاروں سے لے کر لاکھوں ویوز حاصل کرتی رہیں بعد ازاں متعدد اکاؤنٹس نے بھی اسی ویڈیو کو دوبارہ شیئر کیا جس سے اس کے پھیلاؤ میں اضافہ ہوا۔

وائرل ویڈیو اور جاری خطے کی صورتحال کے باعث اس معاملے کی فیکٹ چیکنگ کی گئی۔ تکنیکی تجزیے کے دوران ویڈیو میں کئی واضح تضادات سامنے آئے۔

ویڈیو میں دیکھا گیا کہ دنیا کا سب سے بڑا مسافر طیارہ ایئر بس A380 غیر معمولی طور پر رہائشی گھروں اور گاڑیوں کے انتہائی قریب پرواز کر رہا ہے جبکہ اس کے سائز اور ہوا کے دباؤ کے مطابق اردگرد کے ماحول پر واضح اثر ہونا چاہیے تھا جو نظر نہیں آتا۔

مزید یہ کہ ایک لمحے میں طیارے کا پر بجلی کی تاروں اور کھمبوں کے اندر سے گزرتا دکھائی دیتا ہے جبکہ قریبی گھروں کی چھتوں سے ٹکراؤ کے باوجود کسی قسم کا نقصان ظاہر نہیں ہوتا۔

AI ڈیٹیکشن ٹولز کے ذریعے تجزیے میں بھی اس ویڈیو کے مصنوعی ہونے کے واضح شواہد ملے اور Hive Moderation نے اسے 99 فیصد امکان کے ساتھ AI جنریٹڈ قرار دیا۔

تمام شواہد اور تکنیکی تجزیے کے بعد یہ واضح ہوتا ہے کہ وائرل ہونے والی یہ ویڈیو جعلی ہے اور کسی حقیقی فضائی حادثے کی نمائندگی نہیں کرتی ہے۔

Related Posts