آسٹریلیا نے اسلام آباد مذاکرات کے دوران امریکی وفد کی وطن واپس روانگی پر ردِ عمل دیتے ہوئے امریکا اور ایران پر زور دیا ہے کہ وہ ایک بار پھر بات چیت کا سلسلہ شروع کریں اور مذاکراتی عمل کی طرف واپس آئیں۔
تفصیلات کے مطابق آسٹریلوی وزیر خارجہ نے کہا کہ ایران اور امریکا جنگ بندی پر قائم رہیں اور تعطل کے بعد دوبارہ مذاکرات شروع کریں، کیونکہ کسی معاہدے کے بغیر بات چیت کا اختتام حوصلہ افزا نہیں۔ ایران جنگ کا جلد اور دیرپا حل ضروری ہے، بصورتِ دیگر بڑھتی ہوئی کشیدگی عالمی معیشت پر مزید منفی اثرات ڈال سکتی ہے۔
دوسری جانب ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے بیان دیتے ہوئے کہا کہ متعدد نکات پر پیش رفت ہوچکی ہے، تاہم دو سے تین معاملات پر اختلاف اب بھی موجود ہے۔ ان کے مطابق ایک ہی نشست میں کسی جامع معاہدے کی توقع مناسب نہیں، کیونکہ کسی فریق کو بھی فوری نتائج کی امید نہیں تھی۔ انہوں نے مزید بتایا کہ ایران کی جانب سے پاکستان اور دیگر دوست ممالک کے ساتھ مشاورت کا عمل جاری رہے گا۔
اسماعیل بقائی کا مزید کہنا تھا کہ مذاکرات میں پیش آنے والی پیچیدگیاں بھی ایک اہم وجہ رہیں، جبکہ دورانِ گفتگو چند نئے موضوعات بھی زیر بحث آئے۔ انہوں نے واضح کیا کہ ایران سفارتی سطح پر اپنے حقوق اور مفادات کے تحفظ کے لیے کوششیں جاری رکھے گا۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








