معروف یوٹیوبر ڈکی بھائی کی اہلیہ، عروب جتوئی نے قومی سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) کے اعلیٰ افسران پر سنگین بدعنوانی کے الزامات عائد کیے ہیں۔
عروب جتوئی نے دعویٰ کیا ہے کہ ان کے شوہر کے کیس میں ریلیف دینے کے بدلے ادارے کے افسران نے کروڑوں روپے رشوت میں وصول کیے۔
مقدمے کی دستاویزات میں این سی سی آئی اے کے نو افسران کے نام شامل ہیں، جن میں ڈپٹی ڈائریکٹر آپریشنز اسلام آباد محمد عثمان اور ڈپٹی ڈائریکٹر ایاز خان نمایاں ہیں۔
مقدمہ رشوت اور اختیارات کے ناجائز استعمال کے الزامات پر درج کیا گیا ہے۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ محمد عثمان پہلے ہی اسلام آباد میں ایک اغوا کے مقدمے میں بھی نامزد ہیں۔
عروب جتوئی کی درج کردہ ایف آئی آر کے مطابق، اسسٹنٹ ڈائریکٹر شعیب ریاض نے مبینہ طور پر نو کروڑ روپے ثالثوں کے ذریعے وصول کیے تاکہ ان کے شوہر کے خلاف زیرِ سماعت مقدمے میں عدالتی ریلیف دلایا جا سکے۔
عروب کے مطابق یہ رقم بعد میں ادارے کے دیگر سینیئر افسران میں تقسیم کی گئی، جن میں ایڈیشنل ڈائریکٹر سرفراز چوہدری، ڈپٹی ڈائریکٹر زوار احمد سمیت دیگر شامل ہیں۔
انہوں نے مزید الزام لگایا کہ این سی سی آئی اے کے بعض افسران نے غیرقانونی طور پر ڈکی بھائی کے بائنانس اکاؤنٹس سے رقم بھی منتقل کی۔
ابتدائی تحقیقات میں انکشاف ہوا ہے کہ ملوث افسران نہ صرف رشوت میں ملوث تھے بلکہ وہ آن لائن فراڈ اور جعلی کال سینٹرز کو بھی سہولت فراہم کر رہے تھے۔ ذرائع کے مطابق ماتحت سب انسپکٹرز اپنی غیر قانونی آمدنی کا پچاس فیصد حصہ اعلیٰ افسران کو دیتے تھے۔
ان الزامات کے بعد ادارے کے اندر شدید ہلچل پیدا ہوگئی ہے، اور متعلقہ حکام نے واقعے کی باضابطہ تحقیقات شروع کر دی ہیں۔ ماہرین کے مطابق یہ معاملہ نہ صرف ادارے کی ساکھ کے لیے نقصان دہ ہے بلکہ ملک میں سائبر کرائم کے خلاف جاری مہم پر بھی سوالیہ نشان بن گیا ہے۔
دوسری جانب عدالت میں پیش ہونے والے ایک اور کیس میں انکشاف ہوا کہ ڈپٹی ڈائریکٹر محمد عثمان، جو ڈکی بھائی بیٹنگ کیس کی تحقیقات کر رہے تھے، 14 اکتوبر کو مبینہ طور پر چار مسلح افراد کے ہاتھوں لاپتہ ہو گئے تھے۔
اسلام آباد ہائی کورٹ میں سماعت کے دوران ڈی ایس پی لیگل ساجد چیمہ نے عدالت کو بتایا کہ محمد عثمان کی گمشدگی کی تحقیقات ایس ایس پی انویسٹی گیشن براہِ راست نگرانی میں کر رہے ہیں۔
دلچسپ امر یہ ہے کہ لاپتہ افسر کی اہلیہ روزینہ عثمان، جنہوں نے اپنے شوہر کی بازیابی کے لیے درخواست دائر کی تھی، وہ خود بھی پراسرار طور پر غائب ہو گئی ہیں۔
عدالت نے اس پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے پولیس کو ایک ہفتے میں افسر کی بازیابی کا حکم دیا اور اس کے واٹس ایپ ڈیٹا کی جانچ کی ہدایت کی ہے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








