ای چالان کی رقم براہِ راست بینک اکاؤنٹ سے کٹے گی! حکومتی تجویز سے شہری تشویش میں مبتلا

تازہ ترین

تازہ ترین

(فوٹو؛ فائل)

بھارتی ریاست میں وزیرِ اعلیٰ ریونت ریڈی کے اس اعلان پر شدید تنازع کھڑا ہو گیا ہے جس کے تحت ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی پر عائد جرمانے براہِ راست شہریوں کے بینک اکاؤنٹس سے وصول کرنے کی تجویز سامنے آئی ہے۔ بھارتیہ ریاستی ٹریڈ یونین (بی آر ٹی یو) نے اس فیصلے کو سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے اسے جمہوری اقدار اور شہری آزادیوں کے منافی قرار دیا ہے۔

بی آر ٹی یو کے نائب صدر ناگیش کمار کا کہنا ہے کہ گاڑیوں کی رجسٹریشن کے عمل کو بینک اکاؤنٹس سے لازمی طور پر جوڑنے کا تصور نہ صرف خطرناک ہے بلکہ اس سے عام شہریوں کے بنیادی حقوق متاثر ہوں گے۔ ان کے مطابق یہ اقدام ریاستی نگرانی اور مالی جبر کی ایک نئی شکل ہے۔

ناگیش کمار نے کہا کہ پہلے ہی ٹریفک پولیس کے بعض اہلکار درختوں اور جھاڑیوں کی آڑ میں چھپ کر گاڑیوں کی تصاویر لے رہے ہیں اور چالان جاری کیے جا رہے ہیں۔ ایسے ماحول میں اگر بینک اکاؤنٹس کو خودکار نظام کے تحت جوڑ دیا گیا تو عوام کے کھاتوں سے براہِ راست رقم کاٹنا ایک آمرانہ طرزِ عمل بن جائے گا۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ حکومت اس فیصلے کے ذریعے محض سرکاری خزانہ بھرنا چاہتی ہے، جبکہ انتظامی اصلاحات کا کوئی سنجیدہ ارادہ نظر نہیں آتا۔

انہوں نے سڑکوں کی ناقص منصوبہ بندی پر بھی سوالات اٹھائے اور کہا کہ کئی مقامات پر یو ٹرن سائنسی بنیادوں کے بغیر بنائے گئے ہیں جس کے باعث شہریوں کو کئی کلومیٹر کا اضافی سفر کرنا پڑتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ سڑکوں پر گڑھوں کی وجہ سے ہر سال ہزاروں افراد جان سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں، مگر حکومت ان بنیادی مسائل کو حل کرنے میں ناکام دکھائی دیتی ہے۔

بی آر ٹی یو کے نائب صدر نے مزید کہا کہ شہروں میں شاپنگ مالز کو مناسب پارکنگ سہولت فراہم کیے بغیر اجازت دے دی جاتی ہے، جبکہ انہی مالز کے سامنے سڑک کنارے گاڑیاں کھڑی کرنے پر شہریوں پر بھاری جرمانے عائد کیے جاتے ہیں۔ ان کے مطابق یہ پالیسی سراسر عوام پر بوجھ ڈالنے کے مترادف ہے۔

ناگیش کمار نے الزام لگایا کہ بعض علاقوں میں ٹریفک کنٹرول کرنے کے بجائے پولیس کا کردار صرف تصاویر کھینچنے اور چالان وصول کرنے تک محدود ہو چکا ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ اگر حکومت سڑکیں بہتر نہیں بناتی، زیبرا کراسنگ فراہم نہیں کرتی، پارکنگ کے مسائل حل نہیں کرتی اور ٹریفک نظام کو درست نہیں کرتی تو پھر عوام سے جرمانے وصول کرنا کس حد تک انصاف ہے؟

انہوں نے سخت لہجے میں یہ سوال بھی اٹھایا کہ کیا قانون امیروں اور غریبوں کے لیے الگ الگ ہے؟ کیا متوسط اور غریب طبقہ پہلے ہی مسائل کا شکار نہیں؟ ان کا کہنا تھا کہ اگر حکومت واقعی شفافیت اور جوابدہی چاہتی ہے تو وزیرِ اعلیٰ اور وزراء کے بینک اکاؤنٹس بھی عوام کے سامنے لائے جائیں۔

بی آر ٹی یو کے مطابق ایسے فیصلے حکومت کے زوال کی علامت ہیں اور اس کا سب سے زیادہ بوجھ غریب اور متوسط طبقے پر ڈالا جا رہا ہے جو پہلے ہی مہنگائی اور بے روزگاری سے پریشان ہے۔

Related Posts