ملتان میں موجود گاڑی کا کراچی میں ای چالان! ٹریفک حکام غلطی تسلیم کرنے سے انکاری

تازہ ترین

تازہ ترین

(فوٹو؛ آن لائن)

کراچی کے ای چالان سسٹم میں موجود سنگین خامیوں اور جعلی نمبر پلیٹ کے بڑھتے ہوئے خطرات کو اجاگر کرنے والا ایک حیران کن واقعہ سامنے آیا ہے جس میں ملتان کی رہائشی ایک خاتون کو کراچی میں کی گئی ٹریفک خلاف ورزی پر جرمانہ عائد کر دیا گیا۔

ملتان کی متاثرہ خاتون صبا اس وقت شدید پریشانی کا سامنا کرنا پڑا جب انہیں 10 ہزار روپے کا الیکٹرانک چالان (ای چالان) موصول ہوا۔ سرکاری ریکارڈ کے مطابق صبا کی ڈائی ہاٹسو کیور گاڑی کراچی کے علاقے پنجاب چورنگی پر ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی کرتے ہوئے پکڑی گئی تھی تاہم صبا کی گاڑی اس وقت کراچی میں موجود ہی نہیں تھی بلکہ وہ ملتان میں ان کے گھر موجود تھی۔

May be an image of text

اپنا نام صاف کروانے اور شناخت کی اس واضح چوری کی اطلاع دینے کے لیے صبا نے کراچی کے ڈرگ روڈ ٹریفک سیکشن سے رابطہ کیا مگر تکنیکی معاونت یا باقاعدہ تحقیقات شروع کرنے کے بجائے انہیں ٹریفک حکام کی جانب سے غیر سنجیدہ اور بے حسی پر مبنی جواب دیا گیا۔

May be an image of blueprint and text that says 'Excise Taxation Depar Registration Government ernment sindh Branch:ADC Branch Address:Online Payment 4W Challan No Tax From Tax Payment 207201 Challan Date Tax ARA-369 Engine/Motor Chassis Color RegDate 09-07-2025 -2026 L5015-7558966 DEFINED 15-07-2008 Owner Name er/Husband Address H/Engine POET Name MDL 847 null 240156458256 MUHAMMAD RASHID GOVT COLLGE OG TECH HNO Head STAFF COLONY SIDE KHI Panelty Arrears MV Tax TOTAL Amount Terminal Bank ,125.0 225.00 1Link 19:06:59 WAS 2,100. Online Branch Online ax null This receipt shall for submission Authority. through nternet banking For documents Registration/ of securi featured ATM Federal Mobile Wal are Appl online included this'

صبا کے مطابق ٹریفک اہلکاروں نے انہیں کہا کہ آپ کو خود معلوم ہونا چاہیے کہ آپ کی گاڑی کہاں ہے۔ گاڑی کے آگے اور پیچھے کی تصاویر اور رجسٹریشن کے کاغذات لے کر آئیں پھر ہم دیکھیں گے۔

متاثرہ خاتون نے مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ایک واضح فراڈ کے معاملے میں قانون حرکت میں آنے کے بجائے، بے گناہی ثابت کرنے کی پوری ذمہ داری انہی پر ڈال دی گئی۔

ای چالان کے ساتھ منسلک تصویر میں واضح طور پر صبا کے رجسٹریشن نمبر والی گاڑی دکھائی دے رہی ہے جبکہ ڈرائیور کا چہرہ بھی صاف نظر آ رہا ہے جو کراچی کی سڑکوں پر گاڑی چلا رہا ہے۔ یہ واقعہ جعلی یا کلونڈ نمبر پلیٹس کے خطرناک رجحان کی نشاندہی کرتا ہے جو اکثر ٹیکس چوری یا کسی اور کی شناخت استعمال کر کے جرائم کے لیے استعمال کی جاتی ہیں۔

May be an image of car and text that says 'ARA ARA-369 - 369'

صبا نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ میری گاڑی کی نقل کراچی کی سڑکوں پر گھوم رہی ہے اور کوئی اسے روک نہیں رہا۔ کیمرے میں ڈرائیور کا چہرہ بالکل واضح ہے، مگر فراڈ کرنے والے کو پکڑنے کے بجائے مجھے یہ بتایا جا رہا ہے کہ میں اپنی بے گناہی کیسے ثابت کروں۔

واقعے سے اٹھنے والے اہم سوالات

اس واقعے نے ڈیجیٹل ٹریفک نظام پر کئی سنجیدہ سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ یہ سوال بھی سامنے آیا ہے کہ ای چالان سسٹم جرمانہ جاری کرنے سے پہلے گاڑی کے ماڈل یا میک کو رجسٹریشن ڈیٹابیس سے کیوں نہیں ملاتا ہے؟

ماہرین کے مطابق اگر کوئی کلونڈ گاڑی کسی سنگین جرم یا حادثے میں ملوث ہو جائے تو اصل مالک جو کسی اور شہر میں موجود ہو، شدید قانونی مشکلات کا شکار ہو سکتا ہے۔

اس کے علاوہ گھوسٹ چالان یا غلط ای چالان کے خلاف اعتراض درج کروانے کے لیے کسی سادہ اور منظم نظام کی عدم موجودگی شہریوں کو انتظامی ہراسانی میں مبتلا کر رہی ہے۔

متاثرہ خاتون صبا نے آئی جی سندھ اور سندھ ٹریفک پولیس سے مطالبہ کیا ہے کہ سی سی ٹی وی فوٹیج کی مدد سے جعلی نمبر پلیٹ استعمال کرنے والے شخص کو فوری طور پر تلاش کیا جائے اور ان کے نام جاری کیا گیا غیر قانونی ای چالان منسوخ کیا جائے۔

Related Posts