کراچی کے ای چالان سسٹم میں موجود سنگین خامیوں اور جعلی نمبر پلیٹ کے بڑھتے ہوئے خطرات کو اجاگر کرنے والا ایک حیران کن واقعہ سامنے آیا ہے جس میں ملتان کی رہائشی ایک خاتون کو کراچی میں کی گئی ٹریفک خلاف ورزی پر جرمانہ عائد کر دیا گیا۔
ملتان کی متاثرہ خاتون صبا اس وقت شدید پریشانی کا سامنا کرنا پڑا جب انہیں 10 ہزار روپے کا الیکٹرانک چالان (ای چالان) موصول ہوا۔ سرکاری ریکارڈ کے مطابق صبا کی ڈائی ہاٹسو کیور گاڑی کراچی کے علاقے پنجاب چورنگی پر ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی کرتے ہوئے پکڑی گئی تھی تاہم صبا کی گاڑی اس وقت کراچی میں موجود ہی نہیں تھی بلکہ وہ ملتان میں ان کے گھر موجود تھی۔

اپنا نام صاف کروانے اور شناخت کی اس واضح چوری کی اطلاع دینے کے لیے صبا نے کراچی کے ڈرگ روڈ ٹریفک سیکشن سے رابطہ کیا مگر تکنیکی معاونت یا باقاعدہ تحقیقات شروع کرنے کے بجائے انہیں ٹریفک حکام کی جانب سے غیر سنجیدہ اور بے حسی پر مبنی جواب دیا گیا۔

صبا کے مطابق ٹریفک اہلکاروں نے انہیں کہا کہ آپ کو خود معلوم ہونا چاہیے کہ آپ کی گاڑی کہاں ہے۔ گاڑی کے آگے اور پیچھے کی تصاویر اور رجسٹریشن کے کاغذات لے کر آئیں پھر ہم دیکھیں گے۔
متاثرہ خاتون نے مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ایک واضح فراڈ کے معاملے میں قانون حرکت میں آنے کے بجائے، بے گناہی ثابت کرنے کی پوری ذمہ داری انہی پر ڈال دی گئی۔
ای چالان کے ساتھ منسلک تصویر میں واضح طور پر صبا کے رجسٹریشن نمبر والی گاڑی دکھائی دے رہی ہے جبکہ ڈرائیور کا چہرہ بھی صاف نظر آ رہا ہے جو کراچی کی سڑکوں پر گاڑی چلا رہا ہے۔ یہ واقعہ جعلی یا کلونڈ نمبر پلیٹس کے خطرناک رجحان کی نشاندہی کرتا ہے جو اکثر ٹیکس چوری یا کسی اور کی شناخت استعمال کر کے جرائم کے لیے استعمال کی جاتی ہیں۔

صبا نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ میری گاڑی کی نقل کراچی کی سڑکوں پر گھوم رہی ہے اور کوئی اسے روک نہیں رہا۔ کیمرے میں ڈرائیور کا چہرہ بالکل واضح ہے، مگر فراڈ کرنے والے کو پکڑنے کے بجائے مجھے یہ بتایا جا رہا ہے کہ میں اپنی بے گناہی کیسے ثابت کروں۔
واقعے سے اٹھنے والے اہم سوالات
اس واقعے نے ڈیجیٹل ٹریفک نظام پر کئی سنجیدہ سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ یہ سوال بھی سامنے آیا ہے کہ ای چالان سسٹم جرمانہ جاری کرنے سے پہلے گاڑی کے ماڈل یا میک کو رجسٹریشن ڈیٹابیس سے کیوں نہیں ملاتا ہے؟
ماہرین کے مطابق اگر کوئی کلونڈ گاڑی کسی سنگین جرم یا حادثے میں ملوث ہو جائے تو اصل مالک جو کسی اور شہر میں موجود ہو، شدید قانونی مشکلات کا شکار ہو سکتا ہے۔
اس کے علاوہ گھوسٹ چالان یا غلط ای چالان کے خلاف اعتراض درج کروانے کے لیے کسی سادہ اور منظم نظام کی عدم موجودگی شہریوں کو انتظامی ہراسانی میں مبتلا کر رہی ہے۔
متاثرہ خاتون صبا نے آئی جی سندھ اور سندھ ٹریفک پولیس سے مطالبہ کیا ہے کہ سی سی ٹی وی فوٹیج کی مدد سے جعلی نمبر پلیٹ استعمال کرنے والے شخص کو فوری طور پر تلاش کیا جائے اور ان کے نام جاری کیا گیا غیر قانونی ای چالان منسوخ کیا جائے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








