شہرِ قائد میں ای چالان سسٹم نافذ ہونے کے بعد ریسکیو اداروں نے خود کو ای چالان سسٹم کے چالانوں سے غیر محفوظ قرار دیا ہے جبکہ موٹر سائیکلز اور گاڑیوں کے 23 ہزار ڈرائیورز نے نمبر پلیٹس چھپا لیں۔
تفصیلات کے مطابق کراچی میں فلاحی اداروں کی ایمبولینسز کو بھی لاکھوں روپے کے چالان کیے گئے، فلاحی اداروں کی ایمبولینسز کو لاکھوں روپے کے چالان جاری ہوئے جن میں ایدھی فاؤنڈیشن اور چھیپا شامل ہیں، جنہیں 50سے زائد چالان کیے گئے۔
اسی طرح ریسکیو 1122 کو بھی ایک چالان کیا گیا، حکام کے مطابق زیادہ تر چالان سیٹ بیلٹ کی خلاف ورزی پر ہوئے۔ فلاحی اداروں کا ماننا ہے کہ کئی ایمبولینسز میں مریض اور اٹینڈنٹ کی موجودگی کے باوجود چالان کیے گئے۔
فلاحی اداروں کے مطابق دنیا بھر میں ایمرجنسی سروسز کو چالان سے استثنیٰ دیا جاتا ہے اور ایمرجنسی کیلئے الگ لین بھی بنائی جاتی ہے۔ ڈرائیورز مریض کی جان بچانے کیلئے اپنی سیٹ بیٹ یا اسپیڈ کا دھیان نہیں رکھتے اور مریض کی جان بچانے کی ہر ممکن کوشش کرتے ہیں۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








