دادو میں تہرے قتل کیس میں بریت کے فیصلے کے بعد صورتحال کشیدہ ہو گئی جب پاکستان پیپلز پارٹی سے تعلق رکھنے والے رکن صوبائی اسمبلی سردار احمد چانڈیو اور برہان خان چانڈیو کے حامیوں نے شہر میں اسلحہ برداروں کے ساتھ فاتحانہ مارچ کیا۔ اس دوران شدید ہوائی فائرنگ کی گئی جس سے علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا اور شہری گھروں تک محدود ہو کر رہ گئے۔
سندھ کی عدالت نے ام رباب چانڈیو کے والد، دادا اور چچا کے قتل کے مقدمے میں سردار چانڈیو اور دیگر نامزد ملزمان کو بری کر دیا۔ اس فیصلے کے فوراً بعد شہر میں جشن کا سماں بن گیا تاہم اسلحہ کی نمائش اور فائرنگ نے قانون و امن کی صورتحال پر سوالات کھڑے کر دیے۔
دوسری جانب اس واقعے نے انصاف کے نظام پر بھی بحث چھیڑ دی ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ برسوں تک عدالتوں کے چکر کاٹنے کے باوجود متاثرہ خاندان کو انصاف نہ مل سکا جبکہ طاقتور حلقے ایک بار پھر غالب آتے دکھائی دیے۔
پیپلز پارٹی پر بھی تنقید کی جا رہی ہے کہ اس کے منتخب نمائندوں کے حامیوں کی جانب سے اسلحہ بردار مارچ اور فائرنگ جیسے اقدامات نے نہ صرف عوام میں خوف پیدا کیا بلکہ قانون کی بالادستی پر بھی سوالیہ نشان لگا دیا۔
“سردار کی کامیابی کا جشن” 🎉
دادو، سندھ کی عدالت نے ام رباب کے والد، دادا اور چچا کے قتل کیس میں سردار بھائیوں سمیت تمام نامزد ملزمان کو بری کر دیا۔
واہ… کیا انصاف ہے!
خون بہا، گھر اجڑے، بیٹی نے برسوں عدالتوں کے چکر کاٹے… اور آخر میں فیصلہ یہ کہ “ثبوت ناکافی ہیں”۔لگتا ہے اس… pic.twitter.com/icdnyIn867
— Nadir Baloch (@BalochNadir5) March 30, 2026
سوشل حلقوں میں یہ تاثر زور پکڑ رہا ہے کہ ملک میں کمزور کے لیے انصاف کا حصول مشکل ہوتا جا رہا ہے جبکہ بااثر افراد کے لیے راستے آسان دکھائی دیتے ہیں۔ ام رباب چانڈیو کی طویل جدوجہد کو بھی اسی تناظر میں دیکھا جا رہا ہے جہاں کئی لوگوں کے نزدیک یہ صرف ایک مقدمہ نہیں بلکہ نظامِ انصاف کا امتحان تھا۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








