سندھ کے شہر دادو میں تہرے قتل کے ہائی پروفائل مقدمے کا فیصلہ سامنے آ گیا جہاں مقامی عدالت نے ام رباب چانڈیو کے والد، دادا اور چچا کے قتل کیس میں نامزد تمام ملزمان کو بری کرنے کا حکم دے دیا۔
عدالت نے پیر کے روز محفوظ کیا گیا فیصلہ سناتے ہوئے رکنِ صوبائی اسمبلی سمیت دیگر ملزمان کو شک کا فائدہ دیتے ہوئے بری کیا۔ یہ کیس کئی برسوں سے زیر سماعت تھا اور اس پر صوبے بھر کی نظریں مرکوز تھیں۔
فیصلے کے بعد ام رباب چانڈیو نے عدالت کے باہر میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ وہ اس فیصلے کو تسلیم نہیں کرتیں تاہم عوام حقیقت سے آگاہ ہے۔ ان کے مطابق وہ عوام کی عدالت میں کامیاب ہو چکی ہیں اور اپنی جدوجہد جاری رکھیں گی۔
انہوں نے اعلان کیا کہ وہ اس فیصلے کے خلاف اعلیٰ عدالت سے رجوع کریں گی اور انہیں امید ہے کہ بالآخر انصاف ضرور ملے گا۔ ام رباب کا کہنا تھا کہ تین افراد کے قتل کے باوجود کسی ایک ملزم کو بھی سزا نہ ملنا حیران کن ہے یہاں تک کہ وہ افراد بھی بری ہو گئے جو طویل عرصے تک مفرور رہے۔
والد، چچا، اور دادا کے تھرے قتل کا آٹھ سال بعد فیصلا آنے پر پر ام رباب کا وڈیو موقف۔ عدالتی فیصلے پر عدم اطمینان، ھائی کورٹ سے رجوع کرنے کا فیصلا۔
“یہ عدل کے نظام کا جنازہ نکلا ہے، مگر میرے حوصلے بلند ہیں۔” ام رباب pic.twitter.com/cEVACDg8nn— Yaseen Rind (@myaseenrind) March 30, 2026
ام رباب چانڈیو نے اس مقدمے کو صرف ذاتی نہیں بلکہ ایک بڑے سماجی مسئلے سے جوڑتے ہوئے کہا کہ یہ کیس سندھ میں جاگیردارانہ نظام کے خلاف ایک علامت بن چکا ہے۔ ان کے مطابق اس فیصلے سے یہ تاثر ملتا ہے کہ بااثر افراد قانون سے بالاتر ہیں۔
انہوں نے عدالتی نظام پر بھی سوالات اٹھاتے ہوئے کہا کہ بعض اوقات طاقتور حلقے فیصلوں پر اثر انداز ہوتے ہیں جس سے عام شہری کا اعتماد متزلزل ہوتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ کسی دباؤ میں نہیں آئیں گی اور ہر قانونی فورم پر اپنی آواز بلند کرتی رہیں گی۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








