اسلام آباد: اقتصادی رابطہ کمیٹی کا اجلاس مسلم لیگ ن کے سینئر رہنما و وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار کے زیرصدارت منعقد ہوا، جس میں قدرتی گیس کی قیمتوں میں اضافے کی منظوری دے دی گئی۔
اقتصادی رابطہ کمیٹی کے اجلاس میں بے نظیر اِنکم سپورٹ پروگرام کیلئے 40 ارب کی گرانٹ منظوری دی گئی، جی 20 ممالک سے DSSI اقدام کے تحت قرض ری شیڈول کی بھی منظوری دی گئی۔
ای سی سی کی جانب سے گیس کی قیمتوں میں اضافے کی منظوری دیئے جانے سے آئی ایم ایف کی ایک اور شرط پوری ہو گئی۔
اس سے قبل وفاقی کابینہ نے بجلی پر سبسڈی ختم کرنے اور قیمتوں میں اضافہ کرنے کا پلان منظور کیا تھا، سرکولیشن کے ذریعے نظر ثانی سرکلر ڈیٹ مینجمنٹ پلان کی منظوری دی گئی۔
عالمی مالیاتی فنڈ پروگرام کی بحالی کیلئے شرائط پر عمل درآمد کرتے ہوئے جون تک گھریلو صارفین کیلئے بجلی 7 روپے فی یونٹ تک مہنگی کی جائیگی، برآمدی شعبے کیلئے بجلی پر 12روپے 13پیسے فی یونٹ کی سبسڈی بھی واپس لے لی جائے،مارچ 2023 سے برآمدی شعبے اور کسانوں کیلئے بجلی پر سبسڈی ختم کی جائے گی۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ فروری کے ٹیرف میں اوسط اضافہ 3 روپے 21 پیسے فی یونٹ بنے گا جبکہ مارچ میں سہ ماہی ایڈجسٹمنٹ میں بجلی 69 پیسے مہنگی کی جائے گی، جون میں سہ ماہی ایڈجسٹمنٹ کی مد میں بجلی ایک روپے 64 پیسے مہنگی ہوگی، ستمبر میں بھی بجلی ایک روپے98 پیسے مہنگی کی جائے گی۔
پلان کے مطابق جون 2023 تک بجلی صارفین سے تقریباً 250 ارب روپے ریکور کئے جائیں گے، اس کے علاوہ 3 روپے 39 پیسے فی یونٹ کا سرچارج بھی لگے گا، سہ ماہی ایڈجسٹمنٹ کی مد میں بجلی مہنگی کی جائے گی۔
جون تک سہ ماہی ایڈجسٹمنٹ میں اضافے سے 73 ارب روپے حاصل ہوں گے، اس حوالے سے رواں ماہ بجلی 4 روپے 46 پیسے تک مہنگی ہو گی۔
مزید پڑھیں:جنوری میں تارکین وطن کی جانب سے بھیجی گئی ترسیلات زر میں ریکارڈ کمی
کسان پیکیج کے تحت بجلی پر سبسڈی ختم ہونے سے 14 ارب روپے زائد ملیں گے،جون تک برآمدی شعبے، کسانوں کیلئے سبسڈی ختم ہونے سے 65 ارب روپے حاصل ہوں گے، برآمدکنندگان کیلئے بجلی پر سبسڈی ختم ہونے سے 51 ارب روپے اضافی خزانے میں جمع ہوں گے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








