اسلام آباد: الیکشن کمیشن نے قومی و صوبائی اسمبلیوں کے 41ریکارڈز گوگل ڈرائیولنک پر موڈیفائی کردئیے ہیں جبکہ قواعد کے تحت ریکارڈ کو پولنگ کے 14روز کے اندر اند اَپ لوڈ کیا جاسکتا ہے، بعد میں موڈیفائی نہیں کیاجاسکتا۔
نجی ٹی وی جیو نیوز کا اپنی رپورٹ میں کہنا ہے کہ الیکشن کمیشن کے اقدام سے کئی سوالات اٹھ گئے، قواعد کے تحت الیکشن کمیشن پابند ہے کہ ریکارڈ 14روز کے اندر اپ لوڈ کرے۔ الیکشن کمیشن نے 4اور 5جولائی کو پنجاب اور خیبر پختونخواہ کے فارمز موڈیفائی کیے۔
رپورٹ کے مطابق الیکشن کمیشن نے دونوں صوبوں کی قومی اور صوبائی اسمبلی کے 41 حلقوں کے فارم 45 اور فارم 46 موڈیفائی کردئیے ہیں۔ جن حلقوں کے فارمز موڈیفائی ہوئے ان میں وزیراعظم شہباز شریف کی چھوڑی گئی صوبائی نشست بھی شامل ہے۔
اسی طرح سابق وزیر اعلیٰ حمزہ شہباز، موجودہ وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز، صاحبزادہ حامد رضا اور سابق وفاقی وزیر شہریار آفریدی کے حلقوں کے ریکارڈز کو بھی موڈیفائی کردیا گیا ہے۔ ریکارڈ موڈیفائی کرنے کی وجوہات کیا ہیں؟ الیکشن کمیشن کی جانب سے خاموشی ہے۔
ریکارڈ موڈیفائی کرنے پر سوال کیوں؟
یہاں یہ سوال کیا جاسکتا ہے کہ الیکشن کمیشن نے ریکارڈ موڈیفائی ہی تو کیا ہے، اس میں قباحت کی یا پریشانی کی کیا بات ہے؟ تو ریکارڈ اپ لوڈ کرنے کے بعد موڈیفائی کرنے کی صورت میں الیکشن کمیشن کی جانب سے ریکارڈ تبدیلی سے متاثرہ حلقوں میں دھاندلی کے الزامات عائد کیے جاسکتے ہیں۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








