جماعتِ اسلامی کے مرکزی امیر حافظ نعیم الرحمٰن نے کہا ہے کہ جنگ مسائل کا حل نہیں، حکومت طالبان سے مذاکرات کرے، مذاکرات سے ہی مسائل کا حل نکالا جاسکتا ہے۔
نجی ٹی وی ڈان نیوز کے مطابق باجوڑ اسپورٹس کمپلیکس میں ’آپریشن نامنظور اور ہم امن چاہتے ہیں‘ کے عنوان سے جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے حافظ نعیم الرحمٰن نے کہا کہ پاکستان اور خصوصاً پختون بیلٹ میں قوم مزید آپریشنز کی متحمل نہیں ہوسکتی۔ ملٹی آپریشن چین کا نام لے کر نہیں ہونا چاہئے۔
جلسے سے خطاب کے دوران امیر جماعتِ اسلامی نے کہا کہ ہماری خواہش ہے کہ امن ہو۔ اس حوالے سے تمام سیاسی جماعتوں اور عوام کو اعتماد میں لینا ہوگا کیونکہ فوجی آپریشن فوج اور عوام کے درمیان نفرتیں پھیلاتے ہیں، دوریاں پیدا کرتے ہیں اور ہمیشہ نقصان دہ ثابت ہوتے ہیں۔ خارجہ پالیسی امریکی آقاؤں کے کہنے پر نہ چلائی جائے۔
خطاب کے دوران حافظ نعیم الرحمٰن نے کہا کہ پاکستان آزاد خارجہ پالیسی اختیار کرے۔ ہمیں افغانستان کے ساتھ مذاکرات کرنا ہوں گے کیونکہ افغانستان دشمن ملک نہیں ہے۔ افغانستان پر واضح کرنا چاہتے ہیں کہ وہ بھی پانی سرزمین ہمارے ملک پاکستان کے خلاف استعمال نہ ہونے دے۔
حافظ نعیم الرحمٰن نے کہا کہ تحریکِ انصاف خیبر پختونخوا میں اپنی 11 سالہ کارکردگی عوام کے سامنے لائے، ہم تعلیم، صحت اور روزگار چاہتے ہیں۔ عوام کو جینے کی خواہش ہے، لوگوں کو جینے کا حق دیں۔ جلسے سے جماعتِ اسلامی کی دیگر قیادت نے بھی خطاب کرکے آپریشن کے خلاف بیانات دئیے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








