وفاقی وزیرِ تعلیم شفقت محمود نے آج ملک بھر کے تعلیمی ادارے 18 جنوری سے مرحلہ وار کھولنے کا اعلان کیا ہے جس کے تحت پرائمری اور مڈل کلاسز یکم فروری سے شروع ہوں گی۔
آئیے ملک بھر میں کورونا وائرس کی صورتحال ، تعلیمی اداروں میں کورونا وائرس ایس او پیز پر عمل درآمد اور تعلیمی ادارے کھولنے کے فیصلے کے دیگر پہلوؤں کا جائزہ لیتے ہیں۔
کورونا وائرس کی صورتحال
ملک بھر میں گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 2 ہزار 417افراد کورونا وائرس کا شکار ہوئے اور 45 مزید شہری کورونا میں مبتلا ہونے کے باعث انتقال کر گئے۔ مریضوں کی مجموعی تعداد 5 لاکھ 14 ہزار 338 جبکہ اموات کی تعداد 10 ہزار 863 تک جاپہنچی ہے۔
گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران کورونا وائرس کی تشخیص کیلئے مجموعی طور پر 40 ہزار 359ٹیسٹ کیے گئے ، مجموعی ٹیسٹس کی تعداد 72 لاکھ 84 ہزار سے تجاوز کر گئی جبکہ ملک بھر میں کورونا کے 2 ہزار 294 مریضوں کی حالت تشویشناک ہے۔
وائرس کی تیسری لہر اور نئی قسم
تشویشناک بات یہ بھی ہے کہ کورونا وائرس کی پہلی اور دوسری لہر سے پاکستان گزر چکا ہے جبکہ آج کل وائرس کی تیسری لہر کی آمد آمد ہے جبکہ برطانیہ میں گزشتہ دنوں دریافت ہونے والی کورونا کی نئی قسم پاکستان پہنچ چکی ہے۔
برطانیہ سے پاکستان آنے والے 2 مسافروں کے اجسام میں کورونا کی نئی قسم بی 117پائے جانے کی تصدیق ہوئی۔ قومی ادارۂ صحت نے رواں ماہ 4 جنوری کے روز تصدیق کی تھی کہ وائرس کی نئی قسم پاکستان پہنچ گئی ہے۔
صحتیاب افراد اور فعال کیسز کا مسئلہ
خوش آئند بات یہ ہے کہ گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 2 ہزار 72 افراد جو کورونا میں مبتلا تھے، اس موذی مرض سے صحتیاب بھی ہوئے ہیں جس سے صحتیاب افراد کی مجموعی تعداد 4 لاکھ 69 ہزار 306 ہو گئی ہے۔ فعال کیسز 34 ہزار 169 ہیں۔
ہم جن فعال کیسز کی بات کر رہے ہیں، دراصل یہ وہ لوگ ہیں جو کورونا وائرس میں مبتلا ہسپتال یا پھر اپنے گھروں میں علاج یا پھر قرنطینہ کی تکلیف دہ صورتحال سے گزر رہے ہیں اور ان میں 2 ہزار 294 تشویشناک کیسز بھی شامل ہیں۔
تعلیم کی ناگفتہ بہ صورتحال
آئینِ پاکستان کی شق اے 25 کے مطابق ریاستِ پاکستان پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ 5 سے 16 سال کی عمر تک کے بچوں کو مفت اور لازمی معیاری تعلیم فراہم کرے، تاہم افسوس کی بات یہ ہے کہ ریاست یہ ذمہ داری کماحقہء پوری نہیں کرسکتی جس کیلئے سابقہ حکمرانوں کی بدعنوانیوں کو بہانے کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔
شرحِ تعلیم کے اعتبار سے وفاقی دارالحکومت اسلام آباد پاکستان کے شہروں میں سب سے آگے ہے جہاں 96 فیصد افراد تعلیم یافتہ مانے جاتے ہیں جبکہ صوبہ بلوچستان کے علاقے کوہلو کو سب سے ناخواندہ علاقہ سمجھا جاتا ہے جہاں شرحِ خواندگی صرف 28 فیصد ہے۔
سن 2000ء سے لے کر 2004ء کے مابین پاکستان کے 55 سالہ سے لے کر 64 سالہ افراد تک شرحِ خواندگی 38 فیصد ریکارڈ کی گئی، 45 سے 54 سالہ افراد کی شرحِ تعلیم 46 فیصد ریکارڈ کی گئی۔ 25 سے 34 برس کی عمر تک افراد کی شرحِ تعلیم 57 فیصد جبکہ 15 سے 24 سالہ نوجوان طبقے میں شرحِ تعلیم 72 فیصد ریکارڈ کی گئی۔
پاکستان کے 49 فیصد افراد انگریزی زبان کسی نہ کسی حد تک جانتے ہیں، سالانہ 4 لاکھ 45 ہزار پاکستانی مختلف یونیورسٹیوں سے فارغ التحصیل ہوتے ہیں جن میں سے 10 ہزار کمپیوٹر سائنس کے شعبے میں گریجویشن مکمل کرتے ہیں۔
افسوسناک بات یہ ہے کہ پاکستان کے 50 لاکھ سے زائد بچے اب بھی اسکولوں سے باہر ہیں۔عالمی ایجوکیشن ڈائجسٹ کے اعدادوشمار کے مطابق 6 اعشاریہ 3 فیصد پاکستانی 2007ء تک یونیورسٹیوں سے تعلیم یافتہ تھے جن میں سے 8 اعشاریہ 9 فیصد مرد جبکہ 3 اعشاریہ 5 فیصد خواتین تھیں۔
مختلف صوبوں کی شرحِ خواندگی
سن 2009ء کے اعدادوشمار کے مطابق صوبہ پنجاب میں شرحِ خواندگی 59 فیصد، سندھ میں بھی 59 فیصد، خیبر پختونخوا میں 50 فیصد جبکہ بلوچستان میں 45 فیصد ہے۔
اسلام آباد میں 2007ء تک شرحِ خواندگی 87 فیصد، آزاد کشمیر میں 2004ء کے اعدادوشمار کے مطابق 62 فیصد ، گلگت بلتستان میں 2006ء کے اعدادوشمار کے مطابق 53 فیصد جبکہ قبائلی علاقہ جات میں 22 فیصد شرحِ خواندگی ریکارڈ کی گئی ہے۔
یکساں قومی نصاب کا اعلان
وطنِ عزیز پاکستان میں الگ الگ نصاب بلکہ الگ الگ نظام ہائے تعلیم کا مسئلہ بے حد فرسودہ اور تکلیف دہ حد تک حل طلب ہے کیونکہ ملک بھر میں 3 الگ الگ طرز کے نظامِ تعلیم رائج ہیں۔
مثال کے طور پر سرکاری اسکولوں اور کالجز کا نظامِ تعلیم پرائیویٹ اسکولز کے مقابلے میں یکسر مختلف ہے۔ ذریعہ تعلیم بھی اردو زبان کے مقابلے میں نجی اسکولز میں انگریزی زبان ہے جبکہ تعلیمِ بالغاں اور مکتب اسکول الگ قسم کے طلباء پیدا کر رہے ہیں۔مدرسوں کا نظام الگ قسم کے تعلیم یافتہ انسان پیدا کرتا ہے جو آگے چل کر مفتی اور عالمِ دین بن جاتے ہیں۔
وزیرِ تعلیم شفقت محمود نے اعلان کیا ہے کہ آئندہ تعلیمی سال سے یکساں قومی نصاب رائج کیا جائے گا جو سب سے پہلے نرسری اور پہلی سے پانچویں جماعت تک نافذ ہوگا۔ سن 2022ء میں چھٹی سے آٹھویں جبکہ 2023ء میں 9ویں سے 12ویں جماعت تک یکساں نصاب رائج کیا جائے گا۔
تعلیمی اداروں کی موجودہ صورتحال
کورونا وائرس کے باعث ملک بھر کے تعلیمی ادارے یا تو مکمل طور پر بند ہیں یا پھر ان اداروں میں تعلیم آن لائن ذرائع سے دی جارہی ہے جس کے حصول میں طلباء و طالبات کو مشکلات کا سامنا ہے۔
سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ طلباء کے ساتھ ساتھ ان کے والدین بھی آن لائن ذرائع تعلیم سے آگاہ نہیں ہیں اور آن لائن تعلیم دینے کیلئے زیادہ تر تعلیمی ادارے زوم ایپ کا استعمال کرتے ہیں جس سے موبائل اور کمپیوٹر چلانے والے بے شمار صارفین بھی آگاہ نہیں۔
ضرورت اس بات کی تھی کہ تعلیم کو آن لائن کرنے سے قبل اساتذہ کے ساتھ ساتھ بچوں کے والدین کو بھی زوم ایپ استعمال کرنے کی بھرپور تربیت دی جاتی جو نہ ہونے کے باعث آج پاکستان کے بے شمار بچے تعلیمی عمل میں مشکلات کا شکوہ کر رہے ہیں۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ طلباء کی بڑی تعداد آج بھی تعلیمی اداروں کے بند ہونے کے حق میں تھی کیونکہ اسکولز اور کالجز بند ہونے کے باعث کھیل کود اور تفریح کے خوب مواقع میسر آتے ہیں تاہم وفاقی وزیر شفقت محمود نے 18 جنوری سے تعلیمی ادارے کھولنے کا جو فیصلہ کیا ہے، قوم کے مستقبل کے معماروں کیلئے یہ بے حد خوش آئند سمجھا جارہا ہے۔