دسمبر 2019 ء کے اواخر میں چین کے شہر ووہان میں نمودار ہونیوالا کورونا وائرس دنیا کے 190 سے زائد ممالک کو اپنی لپیٹ میں لے چکا ہے، کورونا وائرس سے اب تک پوری دنیا میں 9 لاکھ 37ہزار567 افراد براہ راست متاثر جبکہ 47 ہزار 256 لقمہ اجل بن چکے ہیں۔
عالمی ادارہ صحت کورونا کو ایک وباء قرار دے چکا ہے جبکہ پاکستان بھی اس وباء سے بری طرح متاثر ہوا ہے ، ملک بھر میں اب تک 2291 افراد میں کورونا وائرس کی تصدیق ہوچکی ہے اور 31 پاکستانی اس موذی وائرس کا شکار ہوکر موت کی وادیوں میں اتر چکے ہیں، عالمی ادارہ صحت نے کورونا کی ویکسین کی کی تیاری کیلئے 12 سے 18 ماہ کا وقت دیا ہے لیکن دنیا بھر میں وائرس پر قابو پانے کیلئے ویکسین کی تیاری کیلئے کام جاری ہے جبکہ پاکستانی ماہرین بھی موذی مرض کو روکنے کیلئے ویکسین کی تیاری کیلئے کوشاں ہیں۔
پاکستانی ماہرین کی تحقیق امریکا،برطانیہ، چین، اسرائیل اورروس کے علاوہ پاکستانی سائنسدان بھی کورونا کی روک تھام کیلئے وائرس کے جینیات پر تحقیق میں مصروف عمل ہیں، ڈائو یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز میں کورونا وائرس کے سدباب کیلئے وائس چانسلر پروفیسر محمد سعید قریشی کی سربراہی میں ریسرچ ٹیم کی جانب سے مقامی کورونا وائرس میں جینیاتی تبدیلیوں پر تحقیق کا عمل جاری ہے جبکہ ماہرین جلد بہتر نتائج اخذکرنے کیلئے انتہائی پرامید ہیں۔ڈاؤ یونیورسٹی کی ریسرچ ٹیم نے دعویٰ کیا ہے کہ کورونا وائرس پاکستان میں مقامی حالات کے لحاظ سے شکلیں تبدیل کررہا ہےاورکورونا وائرس میں مقامی حالات کے مطابق جینیاتی تبدیلیا ں رو نما ہورہی ہیں،ڈاؤ یونیورسٹی میں یہ ریسرچ جدید آلات سے لیس بی ایس ایل تھری وائرولوجی لیب میں کی جا رہی ہے۔ ڈاؤ یونیورسٹی کے علاوہ بھی پاکستان میں کورونا وائرس کے حوالے سے تحقیق جاری ہے، اس حوالے سے معروف سائنسدان پروفیسر عطاالرحمٰن کا کہنا ہے کہ پاکستان میں کورونا کروموسومز چین سے مختلف ہیں اوران کروموسومز کی شدت چینی کروموسومز جتنی خطرناک نہیں ہے۔ وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر جاویداکرم نے بتایا ہے کہ یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز کے زیر اہتمام چار اسٹڈی گروپ قائم کردیئے گئے ہیں اور پاکستانی ماہرین کی ٹیمیں کورونا سے متعلق تحقیقات پر کام کر رہی ہیںاور اساسٹڈی گروپس میں ڈاکٹر عطاء الرحمن بھی شامل ہیں۔
پاکستانی ڈاکٹرزکی کاوشیں کورونا کے حوالے سے پاکستانی ڈاکٹرز جہاں مریضوں کی زندگیاں بچانے کیلئے دن رات محنت کررہے ہیں وہیں کچھ ڈاکٹرز اور ماہرین کورونا کے مریضوں کیلئے آلات کی تیاری پر بھی کام کررہے ہیں ، اس حوالے سے سینٹر فار ایکسی لینس ان مالیکیولر بائیولوجی کےڈاکٹر محمد ادریس کا کہنا ہے کہ کورونا وائرس کی ویکسین کی تیاری آخری مرحلے میں ہے جبکہ کورونا وائرس کی تشخیص کیلئے کٹ بھی ڈاکٹر محمد ادریس کی نگرانی میں ہی تیار ہورہی ہے، ڈاکٹر ادریس کا کہنا ہے کہ کورونا وائرس کی کٹ کی تیاری پر 5 ڈالرز خرچہ ہوا ہے ۔ امریکا میں پاکستانی ڈاکٹرسعود انور نے ایک وینٹی لیٹر کو متعدد افراد کیلئے قابل استعمال بنادیا ہے، ڈاکٹر سعود انور نے اپنے ساتھی ڈاکٹرز کی مدد سے یہ ڈیوائس تیار کی ہے جس سے ایک وینٹی لیٹر سے ایک ہی وقت میں کئی مریض استفادہ کرسکتے ہیں جس کی وجہ سے مہنگا اور مشکل علاج آسان ہوگیا ہے۔
حکومتی تعاون سندھ حکومت کورونا وائرس کی روک تھام کے حوالے سے ویکسین کی تیاری کیلئے ماہرین کو مکمل طور پر مالی معاونت اور وسائل فراہم کرنے کی پیشکش کرچکی ہے جبکہ پنجاب حکومت نے بھی کورونا وائرس پر تحقیقات کرنیوالے ماہرین کو مکمل تعاون کی یقین دہانی کروائی ہے۔
کورونا کی ویکسین چین نے کورونا وائرس روکنے کیلئے ویکسین بنانے کا دعویٰ کیا ہے جبکہ اس ویکسین کے طبّی تجربات کی منظوری بھی دے دی گئی ہے،چین کے بیالوجسٹ میجر جنرل چن وی کی زیر قیادت تحقیقی ٹیم کی تیار کردہ ویکسین کورونا کا سبب بننے والے اینٹی جن حصوں پر مشتمل ہے۔ امریکی ماہرین نے بھی کورونا وائرس کے سدباب کیلئے ویکسین تیار کرلی ہے جسے 16 مارچ کو پہلی بار انسانوں پر آزمانے کی منظوری دی گئی ہے ، تجربے کیلئے خود کو پیش کرنیوالی خاتون کے واشنگٹن میں 45 افراد پر ویکسین کی آزمائش کا عمل شروع ہوچکا ہے جن کی عمریں 18 سے 55 سال کے درمیان ہیں تاہم ویکسین دینے کے بعد بھی تمام افرادبالکل صحت مند ہیں۔ وائرس کا جینیاتی ویکسین محض 2 ماہ قبل ہی تیار کیا گیا تھایہ اس لیے یہ ایک تاریخ ساز کارنامہ قرار دیا جاسکتا ہے کیونکہ اتنی تیزی سے کسی ویکسین کا کلینکل ٹرائل شروع نہیں ہوتا ،اس حوالے سے امریکا کے نیشنل انسٹیٹیوٹ آف ہیلتھ ڈیزیز کے سربراہ انتھونی فیوسی کا کہنا ہے کہ اس ویکسین کے کلینکل ٹرائل کا دورانیہ کم از کم ایک سال سے 18 ماہ تک ہوسکتا ہے جس کے دوران ویکسین کے محفوظ و موثر ہونے کا تعین کیا جائیگا۔ آسٹریلیا میں بھی کورونا کے حوالے سے ویکسین کی جانچ کا آغاز کیا جارہا ہے جبکہ روس نے بھی ویکسین کی تیاری کا دعویٰ کیا ہے۔ امید ہے کہ جلد کورونا کی روک تھام کیلئے ویکسین تیار ہونے کے بعد لوگوں کو اس موذی مرض سے چھٹکارہ مل جائیگا۔