الیکٹرک بائیکس، رکشہ اور لوڈرز! سود سے پاک آسان قسطوں پر، جانیں اپلائی کرنے کا طریقہ

تازہ ترین

تازہ ترین

(فوٹو؛ فائل)

ماحولیاتی بہتری اور پائیدار ٹرانسپورٹ کے فروغ کے لیے حکومتِ پاکستان نے الیکٹرک بائیکس، رکشوں اور لوڈرز کے لیے ایک نئی کاسٹ شیئرنگ اسکیم متعارف کرائی ہے۔ اس منصوبے کا اعلان اسٹیٹ بینک پاکستان (ایس بی پی) کی جانب سے کیا گیا جس کا مقصد ملک بھر میں الیکٹرک گاڑیوں کے استعمال کو فروغ دینا ہے۔

دو مراحل پر مشتمل تقسیم کا منصوبہ

یہ اسکیم دو مراحل میں نافذ کی جائے گی.

پہلا مرحلہ: 40,000 الیکٹرک بائیکس اور 1,000 الیکٹرک رکشے/لوڈرز کی فراہمی

دوسرا مرحلہ: 76,000 بائیکس اور 2,170 رکشے/لوڈرز کی تقسیم

کوٹہ سسٹم – شمولیت کو یقینی بنانے کے لیے

اسکیم میں مختلف طبقوں کی نمائندگی کو یقینی بنانے کے لیے کوٹہ مقرر کیا گیا ہے:

25 فیصد الیکٹرک بائیکس خواتین کے لیے مختص

10 فیصد بائیکس کاروباری افراد (مثلاً ڈیلیوری یا کورئیر سروسز) کے لیے

30 فیصد رکشے/لوڈرز فلیٹ آپریٹرز کو دیے جائیں گے

کون اہل ہے؟

یہ اسکیم تمام پاکستانی شہریوں (بشمول گلگت بلتستان اور آزاد جموں و کشمیر کے رہائشیوں) کے لیے دستیاب ہے۔ عمر کی حد درج ذیل ہے.

الیکٹرک بائیک کے لیے: 18 سے 65 سال

رکشہ/لوڈر کے لیے: 21 سے 65 سال

فلیٹ آپریٹرز بھی رکشہ یا لوڈر کی فنانسنگ کے لیے درخواست دے سکتے ہیں، تاہم ان کی اہلیت اسکیم کی نگرانی کرنے والی اسٹیرنگ کمیٹی طے کرے گی۔

مالیاتی ڈھانچہ اور حکومتی سبسڈی

حکومت اس اسکیم کے تحت نمایاں سبسڈی فراہم کر رہی ہے تاکہ قیمتیں عوام کی دسترس میں رہیں.

فی بائیک: 50 ہزار روپے تک سبسڈی

فی رکشہ/لوڈر: 2 لاکھ روپے تک سبسڈی

فنانسنگ کا طریقہ 80:20 ماڈل پر مبنی ہوگا یعنی 80 فیصد قرض اور 20 فیصد سرمایہ۔ اگر حکومت کی سبسڈی 20 فیصد کی شرط پوری کر دے تو درخواست دہندہ کو اپنی طرف سے کچھ ادا کرنے کی ضرورت نہیں ہو گی۔

مزید یہ کہ تمام قرضے بلا سود (انٹرسٹ فری) ہوں گے، اور صرف اصل رقم اور انشورنس کی اقساط ادا کرنا ہوں گی۔

الیکٹرک بائیک: واپسی کی مدت 2 سال تک

رکشہ/لوڈر: واپسی کی مدت 3 سال تک

ڈیجیٹل درخواست کا عمل

یہ اسکیم مکمل طور پر ڈیجیٹل طریقے سے چلائی جائے گی۔ درخواست، منظوری اور قرضے کی فراہمی تمام عمل آن لائن ہو گا، جس میں کاغذی کارروائی اور انسانی مداخلت کم سے کم ہو گی۔ بینک اس ڈیجیٹل پلیٹ فارم سے منسلک ہوں گے۔

پشاور والوں کے لیے بڑی خوشخبری! اب ہفتے میں 5 دن ابوظہبی جانے کا موقع

گاڑیوں کی فراہمی اور سروس

انجینیئرنگ ڈویلپمنٹ بورڈ (EDB) ایسے ماڈلز اور مینوفیکچررز کی فہرست جاری کرے گا جو اسکیم کے تحت اہل ہوں گے۔ ان کمپنیوں کی ذمہ داری ہو گی کہ گاڑیوں کی بروقت فراہمی یقینی بنائیں اور بعد از فروخت معیاری سروس مہیا کریں۔

Related Posts