بجلی کے صارفین کو نومبر 2024 کے بلوں میں فی یونٹ 0اعشاریہ 7057 روپے کی واپسی ملنے کا امکان ہے کیونکہ انہوں نے ستمبر میں زائد ادائیگی کی تھی۔
ایکس واپڈا ڈسٹری بیوشن کمپنیوں نے نومبر کے بلوں میں اس واپسی کی تجویز دی ہے۔ سینٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی نے نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی کے پاس ستمبر کے فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ کو حتمی شکل دینے کے لیے درخواست جمع کرائی ہے۔
نیپرا نے 30 اکتوبر کو عوامی سماعت مقرر کی ہے تاکہ اس بات کا جائزہ لیا جا سکے کہ تجویز کردہ ایڈجسٹمنٹ جائز ہے یا نہیں اور یہ بھی دیکھا جائے کہ بجلی کی فراہمی اقتصادی میرٹ آرڈر کے مطابق ہوئی یا نہیں۔
اگر اس تجویز کی منظوری دی گئی تو یہ واپسی تمام صارفین کو دی جائے گی، سوائے درج ذیل کے:
– لائف لائن صارفین
– 300 یونٹس تک استعمال کرنے والے گھریلو صارفین
– الیکٹرک گاڑیوں کے چارجنگ اسٹیشن
– پری پیڈ بجلی کے صارفین
– زرعی صارفین
یہ مسلسل تیسرا مہینہ ہوگا جس میں ایف سی اے میں کمی کی جائے گی، جبکہ اس سے قبل 18 مہینوں تک ایف سی اے میں مسلسل اضافہ ہوتا رہا۔ جولائی کے فیصلے میں نیپرا نے ڈسٹری بیوشن کمپنیوں کو ستمبر کے بلوں میں فی یونٹ 0اعشاریہ 369 روپے کی واپسی کا حکم دیا تھا۔
جنوری 2023 سے جون 2024 تک ایف سی اے مثبت رہا، جس کے باعث صارفین کو اضافی چارجز کا سامنا کرنا پڑا، جنوری 2024 میں یہ چارجز 7اعشاریہ 05 روپے فی یونٹ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئے تھے۔
سی پی پی اے کی درخواست کے مطابق ستمبر کے لیے ریفرنس فیول چارجز 9اعشاریہ 8006 روپے فی یونٹ تھے جبکہ اصل لاگت 9اعشاریہ 0949 روپے فی یونٹ رہی، اس لیے 0اعشاریہ 7057 روپے فی یونٹ کی واپسی ممکن ہے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








