ایلون مسک نے ٹوئٹر کے ایک انجینئر کو سوشل میڈیا نیٹ ورک پر ان سے بحث کرنے پر نوکری سے برطرف کردیا۔
دی ورج کی رپورٹ کے مطابق ایرک Frohnhoefer نامی انجینئر کو ٹوئٹر کے نئے سی ای او نے عوامی سطح پر ان سے بحث کرنے پر نوکری سے نکالا۔
یہ تنازع 13 نومبر کو اس وقت شروع ہوا جب ایلون مسک نے ایک ٹوئٹ میں معذرت کرتے ہوئے کہا کہ متعدد ممالک میں ٹوئٹر بہت سست روی سے کام کررہا ہے اور ان کے مطابق اس کی وجہ کوڈنگ ٹھیک نہ ہونا ہے۔
اس ٹوئٹ پر انجینئر کی جانب سے جواب دیا گیا کہ وہ ٹوئٹر کی اینڈرائیڈ ایپ پر 6 سال سے کام کررہے ہیں اور وہ کہہ سکتے ہیں کہ ایلون مسک کی بات غلط ہے۔
انجینئر کا کہنا تھا کہ اینڈرائیڈ ایپ کی پرفارمنس بہتر بنانے کی گنجائش موجود ہے مگر ایلون مسک کی جانب سے بتائی گئی وجہ درست نہیں۔
ایرک Frohnhoefer نے کہا کہ مسائل کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ ایپ میں متعدد ایسے فیچرز بھر دیے گئے ہیں جن کو بہت کم افراد استعمال کرتے ہیں۔
اس کے بعد یہ بحث بڑھتی گئی اور اینڈرائیڈ ایپ سے ہٹ کر دیگر معاملات زیربحث آگئے۔
یہ بھی پڑھیں:
سیکورٹی فورسز نے تخریب کاری کا بڑا منصوبہ ناکام بنادیا، 4دہشتگرد ہلاک
بعد ازاں ایک صارف کی جانب سے انجینئر کے رویے کے سوال پر ایلون مسک نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ اسے برطرف کردیا گیا ہے۔
اس ٹوئٹ کو اب ڈیلیٹ کردیا گیا ہے اور انجینئر نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے تصدیق کی کہ بحث کے 5 گھنٹے بعد کمپنی نے ان کے کمپیوٹر کو لاک کردیا تھا۔
I have spent ~6yrs working on Twitter for Android and can say this is wrong. https://t.co/sh30ZxpD0N
— Eric Frohnhoefer @ ???? (@EricFrohnhoefer) November 13, 2022
ان کا کہنا تھا کہ کمپنی کی جانب سے برطرف کیے جانے پر کوئی رسمی اطلاع نہیں دی گئی۔
خیال رہے کہ ایلون مسک نے اکتوبر کے آخر میں ٹوئٹر کو خریدا تھا اور اس کے بعد ہزاروں ملازمین کو فارغ کرچکے ہیں۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








