سال 2018 میں بدنام زمانہ جنسی مجرم جیفری ایپسٹن نے پاکستان تحریکِ انصاف کے بانی عمران خان کو عالمی امن کے لیے ایک ممکنہ خطرہ قرار دیا تھا۔ یہ انکشاف ایپسٹن کی امریکی ایوانِ نمائندگان میں پیش کی جانے والی ای میلز سے ہوا ہے۔
ڈیموکریٹس کی جانب سے پیش کردہ ای میلز کے مطابق پاکستان میں تحریکِ انصاف کی عام انتخابات میں کامیابی کے بعد 31 جولائی 2018 کو ایپسٹن نے ایک نامعلوم شخص کے ساتھ ای میل گفتگو میں عمران خان کا ذکر کیا۔
ای میل میں ایپسٹن نے ترک صدر طیب اردوان، ایران کے رہنما خامنہ ای، چین کے صدر شی جن پنگ اور روسی صدر پیوٹن کے مقابلے میں عمران خان کو امن کے لیے زیادہ بڑا خطرہ قرار دیا۔ ای میل کا جواب دینے والے نے پوچھا کہ “پاکستان والا پاپولسٹ؟” جس پر ایپسٹن نے اسے “انتہائی بری خبر” قرار دیا۔
ایپسٹن نے عمران خان کے حوالے سے لکھا کہ وہ ڈونلڈ ٹرمپ کو آئن اسٹائن کے طور پر پیش کرتا ہے، سچ بولنے کے قابل نہیں اور ایک کٹر اسلامسٹ ہے۔ ای میل میں مزید کہا گیا کہ عمران خان کرکٹ کپتان ضرور ہے، لیکن شطرنج کا کھلاڑی نہیں، تاہم ہجوم کو جوش دلانے میں انتہائی ماہر ہے۔
ایپسٹن نے اپنی ای میل میں یہ بھی دعویٰ کیا کہ وہ دو دوستوں سے شادی کر چکا ہے، جن میں ایک جمی گولڈ اسمتھ کی بیٹی تھی، جسے اس نے زبردستی مذہب تبدیل کروایا۔
یہ ای میلز اس وقت کی امریکی سیاست میں ایک نیا تنازع کھڑا کر سکتی ہیں اور ایپسٹن فائلز کی ممکنہ عوامی ریلیز کے حوالے سے بھی دلچسپی پیدا ہو گئی ہے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








