جادوگروں کی شامت آگئی، طالبان حکومت نے ملک گیر پکڑ دھکڑ مہم شروع کردی، سینکڑوں جادوگر گرفتار کرکے جیلوں میں ڈال دیے گئے۔
طالبان حکومت کی وزارت امر بالمعروف اور نہی عن المنکر نے ایک اعلامیہ میں کہا ہے کہ رواں سال کے آغاز سے ملک بھر میں جادو اور غیر شرعی امور کے الزامات میں ملوث 250 سے زائد افراد کو گرفتار کیا گیا ہے۔ وزارت کے مطابق یہ تمام گرفتاریاں معاشرتی نظم و نسق بہتر بنانے، غیر شرعی سرگرمیوں پر قابو پانے اور عوامی شکایات کے پیشِ نظر عمل میں لائی گئیں۔
وزارت کے ترجمان سیف الاسلام خیبر نے ایک بیان میں بتایا کہ گرفتار شدہ افراد کو ابتدائی تفتیش مکمل ہونے کے بعد عدالتی و قانونی اداروں کے حوالے کیا جائے گا تاکہ ان کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جا سکے۔ ترجمان کے مطابق اس سال کے آغاز سے وزارت نے ملک بھر میں 250 سے زائد افراد کو جادو ٹونے کے شبے میں گرفتار کیا ہے اور یہ سلسلہ بدستور جاری ہے۔
کابل کے شہریوں نے وزارت امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کے اس اقدام کو سراہا۔ کابل کے رہائشی لال پور نے کہا کہ وزارت امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا یہ اقدام مثبت ہے، وہ افراد جو جادو توڑنے کے نام پر دوسروں کو نقصان پہنچاتے ہیں، انہیں قانون کے مطابق گرفتار کیا جانا چاہیے۔
ایک اور رہائشی محمد نے اس اقدام کو معاشرتی اصلاح کے لیے اہم قرار دیتے ہوئے کہا کہ جادو ٹونے کا استعمال نہ صرف اسلامی نقطۂ نظر سے ممنوع ہے بلکہ یہ معاشرے کے لیے سنگین مسائل کا سبب بھی بنتا ہے۔ بہت سے لوگوں نے اس کے ذریعے دوسروں کی زندگیاں تباہ کی ہیں۔
مذہبی اسکالر حسیب اللہ حنفی نے جادوگروں کی گرفتاری کے اقدام کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ ایسے افراد کے خلاف سخت کارروائی ضروری ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ نہ صرف جادو ٹونے کرنے والے بلکہ قسمت بتانے اور پیش گوئیاں کرنے والے افراد کو بھی قانون کے دائرے میں لایا جانا چاہیے۔
قابل ذکر ہے کہ طالبان حکومت نے تعویذات کے غلط استعمال کے خلاف ایک باضابطہ فرمان جاری کیا تھا، جس میں واضح کیا گیا تھا کہ شرعی حدود کے علاوہ تعویذ کا غلط مقاصد کے لیے استعمال ممنوع اور ناقابل قبول ہے۔ اس فرمان کا مقصد مذہبی اصولوں اور معاشرتی نظم کو مضبوط بنانا تھا۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








