برطانوی اداکارہ ایملی اٹیک نے انکشاف کیا ہے کہ اپنے کیریئر کے دوران انہیں متعدد بار کام کی جگہ پر جنسی ہراسانی اور حملے کا سامنا کرنا پڑا، چاہے وہ شوٹنگ سیٹ پر ہوں یا انڈسٹری کی تقریبات میں۔
35 سالہ اداکارہ، جو مشہور کامیڈی ڈرامے دی اِن بٹوینرز میں اپنے کردار شارلٹ ہنچ کلف کے ذریعے شہرت کی بلندیوں پر پہنچی تھیں، نے ریڈیو ٹائمز کو دیے گئے ایک انٹرویو میں بتایا کہ وہ اب اس مسئلے پر مزید روشنی ڈالنے کے لیے ایک نئی دستاویزی فلم بنانے جا رہی ہیں۔ اس فلم کا موضوع انٹی میسی کوآرڈینیٹرز کا کردار ہوگا، جو اداکاروں کو نازک مناظر میں تحفظ اور سہولت فراہم کرتے ہیں۔
ایملی اٹیک کا کہنا تھا کہ میں نے اپنے کیریئر میں متعدد بار جنسی حملے برداشت کیے ہیں، چاہے وہ سیٹ پر ہوں یا پارٹی میں۔ می ٹو تحریک کے بعد یہ بات واضح ہوئی ہے کہ اب لوگ سن رہے ہیں اور رویوں میں تبدیلی ناگزیر ہے۔
انہوں نے اپنی حالیہ سیریز رائیولز کی شوٹنگ کے دوران کے تجربے کو سراہا جس میں کئی قریبی مناظر فلمائے گئے۔ ان کا کہنا تھا کہ اینٹی میسی کوآرڈینیٹرز کی موجودگی سے ماحول محفوظ اور باعزت رہا، جو ان کے لیے ایک نیا اور مثبت تجربہ تھا۔
یہ پہلی بار نہیں کہ ایملی اٹیک کسی سنجیدہ مسئلے پر دستاویزی فلم بنانے جا رہی ہیں۔ اس سے قبل 2023 میں انہوں نے ایملی اٹیک آسکنگ فار اِٹ کے نام سے ایک ڈاکیومنٹری بی بی سی ٹو پر پیش کی تھی جس میں آن لائن ہراسانی کے بڑھتے رجحان کو اجاگر کیا گیا تھا۔
انہوں نے انسٹاگرام اور ٹک ٹاک پر موصول ہونے والی روزانہ کی بدسلوکی کو انتہائی نقصان دہ قرار دیا تھا۔
ایملی اٹیک تقریباً دو دہائیوں سے انٹرٹینمنٹ انڈسٹری کا حصہ ہیں۔ انہوں نے ابتدا میں ہارٹ بیٹ جیسے ڈراموں میں چھوٹے کردار کیے اور بعد ازاں دی اِن بٹوینرز کے ذریعے نمایاں مقام حاصل کیا۔
وہ راک اینڈ چپس، فلموں گیٹ لکی اور ڈاڈز آرمی میں بھی نظر آئیں جبکہ 2018 میں ریئلٹی شو آئی ایم اے سیلیبریٹی گیٹ می آؤٹ آف ہیئر! میں دوسری پوزیشن حاصل کی۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








