ملک کی صف اول کی دینی درسگاہ دار العلوم کراچی کے مہتمم، مفتی اعظم پاکستان مولانا مفتی محمد رفیع انتقال کرگئے۔
مفتی محمد رفیع عثمانی دار العلوم کراچی کے بانی، نامور مفسر قرآن، فقیہ مفتی اعظم پاکستان مولانا مفتی محمد شفیع کے بڑے صاحبزادے تھے۔ وہ تحریک پاکستان کے کارکن اور قیام پاکستان کے بعد تعمیر پاکستان کی جدو جہد کے ایک دینی رہنما تھے۔ وہ 1936 میں دیوبند میں اس وقت پیدا ہوئے جب ان کے والد مفتی محمد شفیع دار العلوم دیوبند میں استاذ تھے۔
یہ بھی پڑھیں:
وزیر اعظم ہاؤس میں میٹنگیں جاری، اہم تقرر پر جلد فیصلہ متوقع
مفتی محمد رفیع عثمانی شیخ الاسلام جسٹس ریٹائرڈ مولانا مفتی محمد تقی عثمانی کے بڑے بھائی تھے۔ مرحوم نے ساری زندگی دار العلوم کراچی کے احاطے میں اپنے والد کی مسند علم و ارشاد پر قرآن و سنت کی تعلیم دیتے گزاری۔ مرحوم کے دادا مولانا محمد یاسین بھی دار العلوم دیوبند کے استاد تھے۔
مفتی رفیع عثمانی کئی کتابوں کے مصنف بھی تھے۔ ان کا شمار پاکستان کے سرکردہ علماء میں ہوتا تھا، درس مسلم، دو قومی نظریہ، نوادر الفقہ، پراسرار بندے ان کی اہم کتابوں میں شامل ہیں۔
مفتی محمد رفیع عثمانی کی وفات کی تصدیق ان کے بھتیجے اور معروف شاعر سعود عثمانی نے اپنے فیس بک پیج پر کرتے ہوئے دعائے مغفرت کی اپیل کی ہے۔
مرحوم کئی ماہ سے علیل تھے۔ مرحوم کی نماز جنازہ ہفتے کے دن صبح گیارہ بجے دار العلوم کراچی میں ادا کی جائے گی، بعد ازاں دار العلوم کراچی کے احاطے میں واقع قبرستان میں تدفین ہوگی۔
وزیراعظم پاکستان، صدر مملکت، جے یو آئی سربراہ مولانا فضل الرحمان، جسٹس ریٹائرڈ مولانا تقی عثمانی، گورنر سندھ کامران ٹیسوری، وزیر اعلی سندھ سید مراد علی شاہ، اہلسنت و الجماعت کے صدر مولانا اورنگزیب فاروقی، دارلعلوم بنوریہ کے مہتمم مولانا نعمان، پی ایس پی کے صدر انیس قائمخانی، چئرمین سید مصطفی کمال اور قاری محمد عثمان سمیت دیگر مذہبی و سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں نے مفتی اعظم پاکستان صدر دارالعلوم کراچی مفتی محمد رفیع عثمانی کی وفات پر دلی رنج وغم کا اظہارکیا ہے۔
جے یو آئی کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ پاکستان ایک معتدل ،بلند پایہ ،فقیہ اور مفتی سے محروم ہوگیا، مفتی رفیع عثمانی کی گرانقدر علمی خدمات کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ مفتی صاحب مرحوم متوازن افکار و نظریات کے حامل تھے، جنہوں نے اپنی تصانیف اور خطبات سے اسلام کی حقیقی تصویر دنیا کے سامنے پیش کی، جدید فقہی مسائل ہمیشہ صائب موقف دیا۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








