غزہ میں مظالم کے بعد اسرائیلی وزیر اعظم سے اب کوئی بات نہیں ہوگی، طیب ایردوان

تازہ ترین

تازہ ترین

ترکیہ کے صدر رجب طیب ایردوان نے کہا ہے کہ انہوں نے اسرائیل کی غزہ میں کارروائیوں کی وجہ سے صہیونی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو سے رابطہ ختم کر دیا ہے۔

فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی نے ترک میڈیا کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ رجب طیب ایردوان نے سنیچر کو کہا کہ نیتن یاہو سے ہم بات نہیں کریں گے۔ ان سے بات چیت خارج از امکان ہے۔

40 سال تک پاکستانی میزبانی کا شکریہ، مگر مہاجرین کا جبری انخلا درست نہیں، افغان وزیر داخلہ

ترکیہ کے صدر کے بیان سے ایک ہفتہ قبل اسرائیل نے کہا تھا کہ وہ انقرہ سے اپنے تعلقات کا دوبارہ سے جائزہ لے رہا ہے کیونکہ اسرائیل اور حماس کی جنگ کے حوالے سے ترکیہ کے بیانات کافی جارحانہ ہیں۔

اسرائیل ترکیہ سمیت دوسرے علاقائی ممالک سے سکیورٹی وجوہات کی وجہ سے اپنے سفارت کاروں کو بھی واپس بلا چکا ہے۔

گزشتہ مہینے سات اکتوبر کو حماس نے اسرائیل پر حملہ کیا تھا جس میں اسرائیلی حکام کے مطابق تقریباً 14 سو افراد ہلاک ہوئے تھے جن میں اکثریت شہریوں کی تھی اور 240 افراد کو یرغمال بنا لیا گیا۔

حماس کے حملے کے جواب میں اسرائیلی فورسز نے غزہ کے سب سے بڑے شہر کا محاصرہ کیا ہوا ہے اور وہ حماس کو کچلنے کی کوشش کر رہی ہیں۔

غزہ کی وزارت صحت کے مطابق اسرائیلی طیاروں کی بمباری اور زمینی کارروائی کے نتیجے میں اب تک نو ہزار 400 سے زائد فلسطینی شہید ہو چکے ہیں جن میں اکثریت خواتین اور بچوں کی ہے۔

رجب طیب ایردوان کا کہنا تھا کہ ترکیہ اسرائیل سے سفارتی تعلقات ختم نہیں کر رہا۔ تعلقات کو مکمل طور پر منقطع کرنا ممکن نہیں ہے، خاص طور پر بین الاقوامی سفارت کاری میں۔

ایردوان کے مطابق ایم آئی ٹی اینٹلیجنس کے چیف ابراهيم كالين ترکیہ کی جانب سے جنگ کے خاتمے کی کوشش اور ثالثی کے لیے معاملات کو دیکھ رہے ہیں۔ ابراهيم كالين اسرائیل سے بات کر رہے ہیں، وہ فلسطین اور حماس سے بھی مذاکرات کر رہے ہیں۔

تاہم ترکیہ کے صدر کا کہنا تھا کہ نیتن یاہو تشدد کے بنیادی ذمہ دار ہیں اور وہ اپنے عوام کی حمایت سے محروم ہو چکے ہیں۔ انہیں چاہیے کہ وہ ایک قدم پیچھے ہٹیں اور یہ سب روک دیں۔

Related Posts