اسامہ بن لادن امریکی محاصرے سے کیسے فرار ہوا، سنسنی خیز کہانی پڑھئے

تازہ ترین

تازہ ترین

اسامہ بن لادن، فائل فوٹو

امریکا کی خفیہ ایجنسی سی آئی اے کے ایک سابق افسر نے دعویٰ کیا ہے کہ 9/11 حملوں کے مبینہ ماسٹر مائنڈ اسامہ بن لادن نے افغانستان میں امریکی افواج سے بچنے کے لیے عورت کا بھیس بدل لیا تھا۔

خبر رساں ادارے اے این آئی (ANI) کو دیے گئے ایک انٹرویو میں جان کیریاکو جو کسی دور میں پاکستان میں امریکی انسدادِ دہشت گردی کی کارروائیوں کے سربراہ تھے، نے انکشاف کیا کہ امریکی افواج کا یہ خیال تھا کہ اسامہ بن لادن اور القاعدہ کی اعلیٰ قیادت افغانستان کے “تورا بورا” پہاڑوں میں محصور ہو چکی ہے۔ یہ واقعہ افغانستان پر امریکی حملے کے ابتدائی دنوں میں پیش آیا تھا۔

کیریاکو کے مطابق اُس وقت کے امریکی سینٹرل کمانڈ کے سربراہ جنرل ٹومی فرینکس کے لیے کام کرنے والا ایک مترجم بعد میں القاعدہ کا خفیہ رکن نکلا۔ اس مترجم نے مبینہ طور پر جنرل فرینکس کو یقین دلایا کہ بن لادن ہتھیار ڈالنے کے لیے تیار ہے، لیکن اس نے درخواست کی کہ خواتین اور بچوں کو محفوظ نکلنے کے لیے صبح تک کا وقت دیا جائے۔

کیریاکو نے بتایا کہ ہمیں لگا کہ بن لادن واقعی ہتھیار ڈالنے والا ہے، لیکن جب ہماری افواج صبح تورا بورا کے پہاڑوں تک پہنچیں تو تمام غار خالی تھے۔

ان کے مطابق بن لادن نے اسی موقع کا فائدہ اٹھاتے ہوئے رات کے اندھیرے میں عورت کا لباس پہن کر فرار کیا اور ایک پک اپ ٹرک کے پچھلے حصے میں بیٹھ کر پاکستان پہنچ گیا۔

سابق سی آئی اے افسر نے مزید بتایا کہ تورا بورا کے واقعے کے بعد امریکی افواج نے پاکستان بھر میں القاعدہ کی قیادت کا سراغ لگانے کا سلسلہ جاری رکھا۔ بن لادن تقریباً ایک دہائی تک روپوش رہا، یہاں تک کہ مئی 2011 میں ایبٹ آباد میں امریکی نیوی سیل (Navy SEAL) کے آپریشن میں مارا گیا۔

Related Posts