یورپی یونین نے سات اکتوبر سے مسلسل اسرائیل کی حمایت میں ایک متحدہ موقف اختیار کر رکھا ہے اور ہر اہم موقع یا مرحلے پر یورپی اتحاد نے اسرائیل کی مدد کی ہے، تاہم اب جبکہ غزہ میں فلسطینی بچوں اور عورتوں کی اکثریتی تعداد کے ساتھ 29 ہزار ہلاکتیں ہو چکی ہیں ، پورا غزہ تباہ ہو چکا اور غزہ کی تقریباً پوری آبادی بے گھر ہو چکی ہے ان ملکوں نے سوائے ہنگری کے سب جنگ میں وقفہ چاہنے لگے ہیں۔
یورپی یونین کے شعبہ امور خارجہ کے سربراہ جوزپ بوریل نے کہا کہ یورپی یونین کے 26 ارکان نے اتفاق کیا ہے کہ غزہ میں انسانی بنیادوں پر فوری جنگی وقفہ کیا جائے اور یہ جنگی وقفہ بعد ازاں پائیدار سیز فائر میں تبدیل ہو جائے۔
یورپی یونین کے رکن ممالک نے وزرائے خارجہ کے اجلاس میں اپنے اس موقف کا بھی اعادہ کیا ہے کہ اسرائیل رفح میں جنگی یلغار نہ کرے، جو اس وقت غزہ کی نصف سے زیادہ بے گھر ہو چکی آبادی کی پناہ گاہ بنا ہوا ہے۔
تاہم یورپی یونین کے ایک رکن ہنگری نے دیگر تمام ارکان کے ساتھ ہم آواز ہونے سے انکار کیا ہے اور غزہ میں ساڑھے چار ماہ کے دوران جو کچھ ہوا ہے، اس سب کچھ کے باوجود وہ اسرائیل کے ساتھ کھڑے ہوئے ہیں، جبکہ یورپی یونین کے دیگر تمام ارکان میں سے جرمنی ایک ایسا ملک ہے جو کسی بھی صورت میں اسرائیل کے حق دفاع کو کمزور نہیں دیکھنا چاہتا ہے۔
واضح رہے اسرائیل نے خبردار کیا ہے کہ جب تک حماس 132 اسرائیلی یرغمالیوں کو رہا نہیں کرتا، اسرائیل رفح پر اپنی بڑی جنگی یلغار کے ارادے سے پیچھے ہٹے گا نہ رمضان المبارک کی وجہ سے اپنی جنگ میں کوئی کمی یا وقفہ کرے گا۔
دوسری جانب حماس نے بھی اعلان کر رکھا ہے کہ غزہ سے اسرائیلی فوجی انخلاء کے بغیر یرغمالی رہا نہیں کیے جائیں گے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








