اسلامی شریعت کو سرعام سوشل میڈیا پر گالی دینے کی پاداش میں گرفتار انسانی حقوق کی معروف ترک خاتون وکیل فائزہ آلتون کو رہا کر دیا گیا۔
فائزہ آلتون کے خلاف استنبول کے چیف پبلک پراسیکیوٹر کے دفتر نے “لوگوں کو نفرت اور دشمنی پر اکسانے” کے الزام میں مقدمہ درج کرکے تحقیقات کیلئے 19 فروری کو حراست میں لیا تھا۔
کارروائی کا آغاز ہونے کے بعد استنبول پولیس نے ترک سوشل میڈیا کی معروف شخصیت کی رہائش گاہ پر چھاپا مارا اور تلاشی لی۔ بیکوز ڈسٹرکٹ کے چیف پبلک پراسیکیوٹر کے دفتر نے آلتون کے خلاف تعزیرات ترکیہ کے آرٹیکل 216/1 کے تحت مقدمے کا اندراج کرکے قانونی کارروائی آگے بڑھائی۔
فائزہ آلتون کیخلاف سوشل میڈیا صارفین نے 18 فروری کو ان کی طرف سے ایکس پر شیئر کی گئی ایک پوسٹ میں “شریعت کی توہین” کی شکایت کی تھی اور اس کی بنیاد پر ان کیخلاف سوشل میڈیا پر کارروائی کے مطالبے کی مہم چلائی گئی تھی۔
آلتون نے دراصل ایکس پر بحث کے دوران ایک صارف کے کمنٹ کے جواب میں کہا، “F**k the shariya”۔ جیسی قابل اعتراض بات کی تھی، تاہم جب ان کے اس جملے کا شدید ردعمل سامنے آیا تو آلتون نے اپنی پوسٹ ڈیلیٹ کردی، مگر تب تک بہت دیر ہوچکی تھی۔
پوسٹ ڈیلیٹ کرنے کے باوجود آلتون کیخلاف ترکش سوشل میڈیا پر مہم چلائی گئی اور ان کی فوری گرفتاری کا مطالبہ کیا، جس پر انتظامیہ آخر کار حرکت میں آگئی اور آلتون کو گرفتار کرلیا گیا۔
قبل ازیں گرفتاری اور قانونی کارروائی کی مہم شروع ہونے پر آلتون نے 19 فروری کو ایکس پر ایک وضاحتی بیان دیا اور لکھا کہ ان کا مقصد کسی کے مذہب کی توہین نہیں ہے۔
Bugüne kadar hiçbir inançla ilgili en ufak rencide edici şey yazmadım yazmam da. Kimsenin dini inancı , hangi din olursa olsun onu yaşama biçimi beni ilgilendirmez.
Şeriat dediğiniz şey sokaklarda kadın taşlayan Taliban aklıdır benim için. Bu bağlamda sözümün de arkasındayım. Bu…
— Feyza Altun (@feyzaltun) February 19, 2024
ان کا کہنا تھا کہ میرے نزدیک جسے آپ شریعت کہتے ہیں، وہ طالبان کی ذہنیت ہے جو سڑکوں پر خواتین کو پتھر مارتی ہے۔ اس تناظر میں میں اپنی بات پر قائم ہوں۔ ایسی شریعت اس ملک میں کبھی نافذ نہیں ہوگی۔ اس ملک میں جدید سیکولر قانون لاگو ہے۔ یہاں ایسی شریعت کا مطالبہ کرنا آئین کے منافی اور جرم ہے۔
ان کی اس وضاحت کو ڈھٹائی سے تعبیر کیا گیا اور کہا گیا کہ وہ بدستور شریعت کی توہین کی مرتکب ہو رہی ہیں، جس کے بعد انہیں فوری طور پر گرفتار کیا گیا تھا۔
فائزہ آلتون کو ایک دن تک تفتیش کے بعد اب اس شرط پر رہا کر دیا گیا ہے کہ وہ طلب کرنے پر دوبارہ تفتیش کیلئے دستیاب ہوں گی اور ملک سے باہر نہیں جائیں گی۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








