سیاسی جماعتیں حکومت سازی پر متفق نہ ہوئیں تو پھر کیا ہوگا؟

تازہ ترین

تازہ ترین

نگراں وزیر اطلاعات مرتضیٰ سولنگی نے الیکشن کے بعد حکومت سازی کے مرحلے میں پیدا ہونے والے ڈیڈ لاک پر گفتگو کی ہے۔

اس حوالے سے نگران وفاقی وزیر کا کہنا ہے کہ اگر سیاسی جماعتوں کے درمیان کسی قسم کا اتفاق رائے پیدا نہیں ہوتا تو آئین میں اس کا حل موجود ہے۔

پارلیمنٹ ہاﺅس کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ آئین کے تحت انتخابات کے بعد قومی اسمبلی کا اجلاس 29 فروری تک بلایا جا سکتا ہے، قومی اسمبلی کا اجلاس بلانے کی آخری تاریخ تک کچھ دن باقی ہیں، اس میں کسی قسم کا تعطل اور ڈیڈ لاک نہیں، یہ معمول کی کارروائی ہے۔

مرتضیٰ سولنگی نے کہا کہ کسی جماعت کے پاس سادہ اکثریت نہیں، سیاسی جماعتوں کے درمیان مذاکرات چل رہے ہیں، آئین پاکستان خاصا جامع اور مفصل ہے، فرض کریں سیاسی جماعتوں کے درمیان کسی قسم کا اتفاق رائے پیدا نہیں ہوتا تو آئین میں اس کا حل موجود ہے۔

فنکاروں سے انہوں نے کہا کہ وہ لوگ جو مختلف طرح سے لوگوں کی خدمت کرتے ہیں ان کے لیے آواز بلند کرنی  چاہیے، وہ شاعر، موسیقار، فنکار، ڈراما نگار جو کروڑ پتی نہیں، ان کی خدمات کا اعتراف ہونا چاہیے۔

ان کا کہنا ہے کہ اشرافیہ کے کلبز کو بھی چاہیے کہ وہ ایسے فنکاروں کی خدمات کا اعتراف کریں، کسی کو رکنیت دیتے وقت صرف پیسے کو نہ دیکھا جائے، خدمات کو بھی دیکھا جائے۔

Related Posts