اکانومسٹ کی رپورٹ تو ٹریلر تھا! بشریٰ تسکین کی نئی ویڈیوز نے پی ٹی آئی کی بنیادیں ہلا دیں، سوشل میڈیا پر زلزلہ

تازہ ترین

تازہ ترین

Explosive Revelations by Bushra Taskeen Shake PTI
ONLINE

معروف صحافی بشریٰ تسکین کی جانب سے سامنے آنے والی نئی معلومات اور بیانات نے تحریک انصاف کی قیادت، بیانیے اور اندرونی معاملات پر سنجیدہ سوال اٹھا دیے ہیں۔

دی اکانومسٹ کی پہلے شائع ہونے والی رپورٹ کو اگرچہ ایک اہم انکشاف سمجھا جا رہا تھا مگر سوشل میڈیا پر موجود ردعمل کے مطابق وہ رپورٹ اب محض ایک ٹریلر محسوس ہو رہی ہے۔

بشریٰ تسکین کی تازہ گفتگو، دعوے اور سامنے آنے والی مزید آڈیوز کے بعد صورتحال ایک نئے رخ پر پہنچ چکی ہے جس نے پی ٹی آئی کی اندرونی بنیادوں کو جھنجھوڑ کے رکھ دیا ہے۔

بشریٰ بی بی کی بہن کے اُس بیان نے مزید تنازع کھڑا کر دیا جس میں انہوں نے دعویٰ کیا تھا کہ وہ اور ان کی بہن کوئین میری کالج لاہور کی فارغ التحصیل ہیں، لیکن جب بشریٰ تسکین نے اسی کالج جا کر تصدیق کی تو معلوم ہوا کہ یہ دعویٰ درست نہیں تھا۔

اس تضاد کو بنیاد بنا کر انہوں نے کہا کہ بشریٰ بی بی کی بہن نے حقائق کے برعکس بات کی اور یہ بات ان کے مطابق ایک واضح جھوٹ کے زمرے میں آتی ہے۔ یہ نکتہ دی اکانومسٹ کے مصنف نے بھی اپنی رپورٹ میں بیان کیا تھا، جس کا حوالہ بشریٰ تسکین نے دوبارہ دیا۔

اس معاملے کا سب سے اہم پہلو وہ ملاقات ہے جس کا ذکر انہوں نے مختلف پلیٹ فارمز پر کیا۔ ان کے مطابق دی اکانومسٹ کے آرٹیکل شائع ہونے سے پہلے ان کی علیمہ خان کے ساتھ تین گھنٹے طویل نشست ہوئی، جس کے دوران انہوں نے رپورٹ کے مندرجات اور تحقیق سے متعلق کوئی اعتراض یا ردعمل نہیں دیا۔

بشریٰ تسکین کے بقول اس ملاقات کی آڈیو ریکارڈنگ موجود ہے اور اس میں وہ تمام امور موجود ہیں جن سے یہ تاثر ملتا ہے کہ علیمہ خان نہ صرف اس تحقیق کے بارے میں آگاہ تھیں بلکہ ان کے خاموش رہنے سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ انہیں اس پر اعتراض نہیں تھا۔

مزید یہ کہ علیمہ خان اور بشریٰ بی بی کے درمیان سیاسی معاملات، شوکت خانم کے معاملات اور وراثت پر اختلافات موجود ہیں اور جب بھی وہ ان موضوعات پر عمران خان سے بات کرنا چاہتی ہیں تو ان کے مطابق عمران خان سننے سے گریز کرتے ہیں، اس وجہ سے بھی اس تنازع میں شدت پیدا ہوتی رہی۔

بشریٰ تسکین نے ایک حیران کن دعویٰ یہ بھی کیا کہ آج بھی بنی گالہ میں وہ شخص موجود ہے جو مبینہ طور پر جادوئی رسومات کے لیے بکرے کا سر مخصوص چھریوں سے کاٹ کر لایا کرتا تھا۔

انہوں نے چیلنج کیا کہ اگر عدالت نے موقع دیا تو وہ اس شخص کو سامنے لے آئیں گی اور یہاں تک کہا کہ تحریک انصاف کے کارکنان کو بھی لے کر جائیں گی تاکہ وہ خود دیکھ سکیں کہ ان معاملات کی حقیقت کیا ہے۔ ان کے اس بیان سے سیاسی ماحول میں مزید تیزی آگئی اور سوشل میڈیا پر اس حوالے سے شدید بحث جاری ہے۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ اگر علیمہ خان کو پہلے ہی علم تھا کہ بشریٰ بی بی کے خلاف کہانی سامنے آنے والی ہے، تو ان کا خاموش رہنا بھی بہت کچھ ظاہر کرتا ہے۔ یہ الزام تحریک انصاف کی داخلی سیاست میں بڑی دراڑ کی نشاندہی کرتا ہے۔

بشریٰ تسکین کے مطابق ایک موقع پر جب لطیف نامی شخص کمرے میں داخل ہوا تو بشریٰ بی بی کے سابق شوہر خاور مانیکا نے اسے ہدایت دی کہ شروع سے پوری بات سنائے۔

اس کے بعد لطیف نے تمام تفصیلات بتائیں۔ ان کے الفاظ کے مطابق اس گفتگو نے تحریک انصاف کی اندرونی صورتحال کو پوری طرح بے نقاب کر دیا ہے اور پارٹی کے دیرینہ بیانیے کو زبردست دھچکا لگا ہے۔

پی ٹی آئی رہنما نعیم حیدر پنجوتھا کے ساتھ ٹی وی پر ہونے والی گفتگو میں جب انہوں نے کہا کہ وہ خان صاحب سے مشورہ کر کے ان پر مقدمہ کریں گے تو بشریٰ تسکین نے طنزیہ انداز میں جواب دیا کہ آپ چاہیں تو خان صاحب کے والد سے بھی مشورہ کر سکتے ہیں۔

 

اس کے علاوہ انہوں نے نعیم پنجوتھا کو چیلنج کرتے ہوئے کہا کہ اگر یہ ثابت نہ کیا گیا کہ انہیں کسی نے پیسے دیے ہیں، تو وہ انہیں ایسا انجام دکھائیں گی کہ وہ مدتوں یاد رکھیں گے۔ ان کے اس دھمکی آمیز جواب نے معاملے کو مزید سنگین سمت میں دھکیل دیا۔

اسی دوران انہوں نے ایک اور دعویٰ سامنے رکھا کہ وہ قصائی جس سے بکرے منگوائے جاتے تھے اس سے ان کی پوری تصدیق ہو چکی ہے اور دلچسپ بات یہ ہے کہ وہ قصائی بھی تحریک انصاف کا ایک دیرنہ کارکن ہے۔ اس نے نہ صرف ان واقعات کی تصدیق کی بلکہ انہیں اپنی سیاسی وابستگی کے باوجود حقائق بتائے۔

بشریٰ تسکین کے ان بیانات، دعووں اور شواہد نے تحریک انصاف کے حلقوں میں شدید بے چینی پیدا کردی ہے۔ مخالفین اسے اندر سے اٹھنے والی بغاوت قرار دے رہے ہیں جبکہ پی ٹی آئی کے حمایتی اسے ایک بڑی سازش سے تعبیر کر رہے ہیں۔

سوشل میڈیا ٹرینڈز اور عوامی بحث سے یہ دکھائی دیتا ہے کہ معاملہ ابھی ختم نہیں ہوا بلکہ آئندہ دنوں میں مزید تہلکہ خیز انکشافات ہونے کا امکان موجود ہے۔

 

Related Posts