معروف صحافی بشریٰ تسکین کی جانب سے سامنے آنے والی نئی معلومات اور بیانات نے تحریک انصاف کی قیادت، بیانیے اور اندرونی معاملات پر سنجیدہ سوال اٹھا دیے ہیں۔
دی اکانومسٹ کی پہلے شائع ہونے والی رپورٹ کو اگرچہ ایک اہم انکشاف سمجھا جا رہا تھا مگر سوشل میڈیا پر موجود ردعمل کے مطابق وہ رپورٹ اب محض ایک ٹریلر محسوس ہو رہی ہے۔
بشریٰ تسکین کی تازہ گفتگو، دعوے اور سامنے آنے والی مزید آڈیوز کے بعد صورتحال ایک نئے رخ پر پہنچ چکی ہے جس نے پی ٹی آئی کی اندرونی بنیادوں کو جھنجھوڑ کے رکھ دیا ہے۔
بشریٰ بی بی کی بہن کے اُس بیان نے مزید تنازع کھڑا کر دیا جس میں انہوں نے دعویٰ کیا تھا کہ وہ اور ان کی بہن کوئین میری کالج لاہور کی فارغ التحصیل ہیں، لیکن جب بشریٰ تسکین نے اسی کالج جا کر تصدیق کی تو معلوم ہوا کہ یہ دعویٰ درست نہیں تھا۔
اس تضاد کو بنیاد بنا کر انہوں نے کہا کہ بشریٰ بی بی کی بہن نے حقائق کے برعکس بات کی اور یہ بات ان کے مطابق ایک واضح جھوٹ کے زمرے میں آتی ہے۔ یہ نکتہ دی اکانومسٹ کے مصنف نے بھی اپنی رپورٹ میں بیان کیا تھا، جس کا حوالہ بشریٰ تسکین نے دوبارہ دیا۔
اس معاملے کا سب سے اہم پہلو وہ ملاقات ہے جس کا ذکر انہوں نے مختلف پلیٹ فارمز پر کیا۔ ان کے مطابق دی اکانومسٹ کے آرٹیکل شائع ہونے سے پہلے ان کی علیمہ خان کے ساتھ تین گھنٹے طویل نشست ہوئی، جس کے دوران انہوں نے رپورٹ کے مندرجات اور تحقیق سے متعلق کوئی اعتراض یا ردعمل نہیں دیا۔
بشریٰ تسکین کے بقول اس ملاقات کی آڈیو ریکارڈنگ موجود ہے اور اس میں وہ تمام امور موجود ہیں جن سے یہ تاثر ملتا ہے کہ علیمہ خان نہ صرف اس تحقیق کے بارے میں آگاہ تھیں بلکہ ان کے خاموش رہنے سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ انہیں اس پر اعتراض نہیں تھا۔
"آرٹیکل چھپنے سے پہلے علیمہ خان سے ہماری تین گھنٹے کی ملاقات ہوئی جو اسٹوری ہم کر رہے تھے اُسکے خلاف انہوں نے ایک لفظ نہیں کہا" بشری تسکین
مطلب کہ نند کو پہلے ہی پتہ چل چکا تھا کہ بھابھی کیخلاف اسٹوری آ رہی ہے پھر بھی وہ چپ رہی🤔 pic.twitter.com/5v4WmooIhZ
— Sadia Khalid (@SadiasOfficial) November 15, 2025
🚨🚨 اس سٹوری کیلئے بشری تسکین کی علیمہ خان سے تین گھنٹے ملاقات ہوئی جس کی آڈیو ریکارڈنگ بھی موجود ہے۔ علیمہ خان کے بشری بی بی سے سیاسی، شوکت خانم ، وراثت پر اختلافات ہیں اور جب بھی وہ جیل ملاقات میں اس بارے میں عمران خان سے بات کرنا چاہتی ہیں تو خان صاحب بات نہیں سنتے۔ https://t.co/cMKhBoKQRx pic.twitter.com/SFCQxHvpYf
— Moonis S. (@RxCommerceMogul) November 16, 2025
مزید یہ کہ علیمہ خان اور بشریٰ بی بی کے درمیان سیاسی معاملات، شوکت خانم کے معاملات اور وراثت پر اختلافات موجود ہیں اور جب بھی وہ ان موضوعات پر عمران خان سے بات کرنا چاہتی ہیں تو ان کے مطابق عمران خان سننے سے گریز کرتے ہیں، اس وجہ سے بھی اس تنازع میں شدت پیدا ہوتی رہی۔
بشریٰ تسکین نے ایک حیران کن دعویٰ یہ بھی کیا کہ آج بھی بنی گالہ میں وہ شخص موجود ہے جو مبینہ طور پر جادوئی رسومات کے لیے بکرے کا سر مخصوص چھریوں سے کاٹ کر لایا کرتا تھا۔
بشری تسکین ناٹ کمنگ سلو!
"آج بھی بنی گالہ میں وہ شخص موجود ہے جو پڑھائی والی چھریوں سے بکرے کا سر جادو کیلئے کاٹ کر لاتا تھا آؤ میں لے جا کر ملواتی ہوں عدالت میں تو میں ان یوتھیوں کو لیکر جاؤنگی" pic.twitter.com/pWv0LHovxa— Sadia Khalid (@SadiasOfficial) November 16, 2025
انہوں نے چیلنج کیا کہ اگر عدالت نے موقع دیا تو وہ اس شخص کو سامنے لے آئیں گی اور یہاں تک کہا کہ تحریک انصاف کے کارکنان کو بھی لے کر جائیں گی تاکہ وہ خود دیکھ سکیں کہ ان معاملات کی حقیقت کیا ہے۔ ان کے اس بیان سے سیاسی ماحول میں مزید تیزی آگئی اور سوشل میڈیا پر اس حوالے سے شدید بحث جاری ہے۔
This clip clearly shows Aleema Khan's footprints behind this Economist story.
— Moonis S. (@RxCommerceMogul) November 15, 2025
انہوں نے یہ بھی کہا کہ اگر علیمہ خان کو پہلے ہی علم تھا کہ بشریٰ بی بی کے خلاف کہانی سامنے آنے والی ہے، تو ان کا خاموش رہنا بھی بہت کچھ ظاہر کرتا ہے۔ یہ الزام تحریک انصاف کی داخلی سیاست میں بڑی دراڑ کی نشاندہی کرتا ہے۔
بشریٰ تسکین کے مطابق ایک موقع پر جب لطیف نامی شخص کمرے میں داخل ہوا تو بشریٰ بی بی کے سابق شوہر خاور مانیکا نے اسے ہدایت دی کہ شروع سے پوری بات سنائے۔
لطیف کمرہ میں داخل ہوا تو مانیکا نے کہا لطیف میڈم نوں شروع توں سنا اور پھر لطیف نے عمران خان کے الف سے شروع کیا اور پنکی کی چھوٹی ی تک سب کچھ بتایا
اور ناظرین بشری تسکین نے پوری تحریک انصاف کا منہ دیوار جانب کردیا ہے pic.twitter.com/5eFq0XiFsf— Raja Kabeer ™ (@kabeerraja786) November 16, 2025
اس کے بعد لطیف نے تمام تفصیلات بتائیں۔ ان کے الفاظ کے مطابق اس گفتگو نے تحریک انصاف کی اندرونی صورتحال کو پوری طرح بے نقاب کر دیا ہے اور پارٹی کے دیرینہ بیانیے کو زبردست دھچکا لگا ہے۔
پی ٹی آئی رہنما نعیم حیدر پنجوتھا کے ساتھ ٹی وی پر ہونے والی گفتگو میں جب انہوں نے کہا کہ وہ خان صاحب سے مشورہ کر کے ان پر مقدمہ کریں گے تو بشریٰ تسکین نے طنزیہ انداز میں جواب دیا کہ آپ چاہیں تو خان صاحب کے والد سے بھی مشورہ کر سکتے ہیں۔
ہم خان صاحب سے مشورہ کر کے آپ پہ کیس کریں گے ۔۔ پنچوتھا
آپ خان صاحب کے باپ سے بھی مشورہ کر لیں۔ بشری تسکین pic.twitter.com/r024QDbezC
— Syed Saleem (@syedsaleem__) November 16, 2025
اس کے علاوہ انہوں نے نعیم پنجوتھا کو چیلنج کرتے ہوئے کہا کہ اگر یہ ثابت نہ کیا گیا کہ انہیں کسی نے پیسے دیے ہیں، تو وہ انہیں ایسا انجام دکھائیں گی کہ وہ مدتوں یاد رکھیں گے۔ ان کے اس دھمکی آمیز جواب نے معاملے کو مزید سنگین سمت میں دھکیل دیا۔
"ثابت کرو کہ مجھے کسی نے پیسے دئیے ورنہ تمہارا کالا کوٹ اتروا کے وہ حال کروں گی کہ یاد کرو گے"
یوتھیوں نے "دی اکانومسٹ" پر ہتک عزت کا دعوی کرنے کی جرات نہیں کی مگر ببر شیرنی بشری تسکین نے نعیم حیدر پنجوتھہ کیخلاف ہتک عزت کا دعوی کرنے کا اعلان کر دیا pic.twitter.com/C3TW6UUOuD
— Sadia Khalid (@SadiasOfficial) November 15, 2025
اسی دوران انہوں نے ایک اور دعویٰ سامنے رکھا کہ وہ قصائی جس سے بکرے منگوائے جاتے تھے اس سے ان کی پوری تصدیق ہو چکی ہے اور دلچسپ بات یہ ہے کہ وہ قصائی بھی تحریک انصاف کا ایک دیرنہ کارکن ہے۔ اس نے نہ صرف ان واقعات کی تصدیق کی بلکہ انہیں اپنی سیاسی وابستگی کے باوجود حقائق بتائے۔
جس قصائی سے بکرے منگوائے جاتے تھے ہم نے اس سے پوری تصدیق کی ہے
اور
وہ قصائی پی ٹی آئی کا ڈائی ہارٹ کارکن ہےاس نعیم پینچودہ نے مجھے paid کہا ہے میں اس کو عدالت کے کر جاؤں گی اسکا کالا کوٹ اترواؤں گی
بشریٰ تسکین pic.twitter.com/Lh1aDyMFMk
— بانکے میاں (@bankay_mian62) November 16, 2025
بشریٰ تسکین کے ان بیانات، دعووں اور شواہد نے تحریک انصاف کے حلقوں میں شدید بے چینی پیدا کردی ہے۔ مخالفین اسے اندر سے اٹھنے والی بغاوت قرار دے رہے ہیں جبکہ پی ٹی آئی کے حمایتی اسے ایک بڑی سازش سے تعبیر کر رہے ہیں۔
سوشل میڈیا ٹرینڈز اور عوامی بحث سے یہ دکھائی دیتا ہے کہ معاملہ ابھی ختم نہیں ہوا بلکہ آئندہ دنوں میں مزید تہلکہ خیز انکشافات ہونے کا امکان موجود ہے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








