لاہورکی یونیورسٹی میں کھلے عام اظہارِمحبت ، کیابھارتی فلمیں ہمارے ذہنوں پراثرکررہی ہیں؟

تازہ ترین

تازہ ترین

لاہورکی یونیورسٹی میں کھلے عام اظہارِمحبت ، کیابھارتی فلمیں ہمارے ذہنوں پراثرکررہی ہیں؟
لاہورکی یونیورسٹی میں کھلے عام اظہارِمحبت ، کیابھارتی فلمیں ہمارے ذہنوں پراثرکررہی ہیں؟

اظہارِ محبت کوئی جرم نہیں ہے تاہم کھلے عام اظہارِ محبت میں بعض ایسی قباحتیں ضرور ہیں جو اسلامی جمہوریہ پاکستان جیسے ملک میں محبت کرنے والوں کیلئے بڑا مسئلہ ثابت ہوسکتی ہیں۔

 لاہور کی ایک نجی یونیورسٹی میں اس وقت ایک دلچسپ واقعہ پیش آیا جب ایک طالبہ اور طالبِ علم نے کھلے عام ایک دوسرے کو شادی کیلئے پروپوز کر ڈالا۔ واقعے کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوگئی اور یونیورسٹی انتظامیہ نے سخت ایکشن لے لیا۔

آئیے لاہور کی نجی یونیورسٹی میں پیش آنے والے اظہارِ محبت سے متعلق واقعے پر یونیورسٹی انتظامیہ کے ایکشن اور واقعے کے دیگر پہلوؤں کا جائزہ لیتے ہیں تاکہ یہ علم ہوسکے کہ سوشل میڈیا پر اس واقعے پر تنقید کیوں کی جارہی ہے؟

نجی یونیورسٹی کا واقعہ 

کھلے عام پروپوزل یعنی شادی کی پیشکش سے متعلق یہ واقعہ گزشتہ روز پیش آیا۔ لڑکی نے لڑکے کو پھول پیش کیے تھے اور شادی کی پیشکش بھی کی جس نے خوشی خوشی یہ پیشکش قبول کی اور ساتھی طلباء نے ان کی تصاویر بنائیں۔ جیسے ہی پروپوزل قبول ہوا، طلباء نے نعرے بازی کی تاکہ دونوں کی حوصلہ افزائی کی جاسکے۔

بعد ازاں یونیورسٹی انتظامیہ نے دونوں کو یونیورسٹی سے نکال باہر کیا۔ رجسٹرار، یونیورسٹی آف لاہور کے دستخط سے ایک حکم نامہ جاری کیا گیا تھا۔ کہا گیا کہ آپ نے یونیورسٹی کے ضابطۂ اخلاق کی خلاف ورزی کی ہے۔ ڈسپلنری کمیٹی نے طلب بھی کیا تھا مگر پریمی جوڑے نے حاضری کی زحمت گوارا نہیں کی۔ 

سوشل میڈیا صارفین کی تنقید 

ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے بعد سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر خوب تنقید کی گئی۔ فاطمہ خلیل بٹ نامی سوشل میڈیا صارف نے کہا کہ اِس قسم کے لوگوں کی وجہ سے بہت سی لڑکیاں تعلیم حاصل کرنے سے محروم رہ جاتی ہیں۔ 

فاطمہ خلیل بٹ نے جو کہا، حقیقی زندگی سے اس کی بے شمار مثالیں لی جاسکتی ہیں، مثلاً ایسے والدین جو یہ کہہ کر اپنی بیٹیوں کو تعلیم نہیں دلواتے کہ یونیورسٹیوں کاماحول خراب ہے۔ بیٹی کو پڑھنے کیلئے داخل کرایا تو کچھ بھی ہوسکتا ہے، وغیرہ وغیرہ۔ 

سیدہ سارہ بخاری نے کہا کہ جب معروف عالمِ دین ڈاکٹر اسرار احمد مرحوم نے کہا تھا کہ مخلوط تعلیم ہمارے معاشرے میں تمام تر اخلاقی بے راہروی کی بنیاد ہے اور ملک میں بے حیائی پھیلا رہی ہے تو تمام لبرلز نے ان پر تنقید کی، لیکن آج یہ ثابت ہوگیا ہے کہ وہ ٹھیک کہہ رہے تھے۔ 

https://twitter.com/Sarah_shah_/status/1370367337799561222

میمز اور تمسخر 

سوشل میڈیا پر نہ صرف نجی یونیورسٹی کے واقعے پر سنجیدہ تنقید ہوئی بلکہ میمز بنا کر مذاق بھی اڑایا گیا۔ صبغت اللہ نامی صارف نے کہا کہ یونیورسٹی آف لاہور کے طلباء کو جب یہ پتہ چلا کہ ان کا واقعہ سوشل میڈیا پر ٹرینڈ کر رہا ہے تو وہ کہنے لگے کہ اب انڈر گراؤنڈ ہونے کا وقت ہوگیا ہے۔ 

وزیر نامی سوشل میڈیا صارف نے دونوں طلباء کا مذاق اڑاتے ہوئے کہا کہ جب نجی یونیورسٹی کے طلباء ایک دوسرے کو پروپوز کر رہے تھے تو یو ای ٹی اسٹوڈنٹس یہ کر رہے تھے۔ انہوں نے ایک مختصر ویڈیو شیئر کی جس میں دو ہم جنس طلباء ایک دوسرے کو پروپوز کرتے نظر آئے۔ 

ممکنہ وجوہات 

جب بھی کوئی ایسا متنازعہ واقعہ رونما ہوتا ہے جو پورے معاشرے کی توجہ کھینچ لے تو ہم اس کی ممکنہ وجوہات پر ضرور غور کرتے ہیں۔

منیب جاوید بیگ نامی سوشل میڈیا صارف کا کہنا ہے کہ نجی یونیورسٹی کے طلباء نے صرف شوبز انڈسٹری کی پیروی میں کھلے عام اظہارِ محبت کیا۔ 

شوبز انڈسٹری میں اگر یہی مثال تلاش کی جائے تو ہمیں یاسر حسین اور اقراء عزیز نظر آتے ہیں۔ یاسر حسین نے 28 دسمبر 2019ء کے روز شادی سے قبل ایوارڈ شو کے دوران اقراء عزیز کو اسی طرح کھلے عام پروپوز کیا تھا۔ 

محبت کا اظہار جرم نہیں ہے

اسلامی جمہوریہ پاکستان کی بات کی جائے تو یہاں آئین و قانون بھی آپ کو محبت کا اظہار کرنے سے نہ روکتا ہے اور نہ روک سکتا ہے کیونکہ آئین میں اسلامی عقائد کی پاسداری کا وعدہ کیا گیا ہے۔

اسلامی شریعت میں بھی محبت کا اظہار غلط نہیں ہے۔ امام نسائی کی حدیث ہے کہ انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت کرتے ہوئے بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص رسول اللہ ﷺ کے پاس حاضر تھا۔ ایک اور شخص قریب سے گزرا۔ اس نے کہا کہ یا رسول اللہ ﷺ میں اس (گزرنے والے) سے محبت کرتا ہوں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ اسے یہ بات بتا دو۔ چنانچہ اس نے اس شخص کو جا کر بتایا کہ میں اللہ کی خاطر تم سے محبت کرتا ہوں۔ اس نے کہا کہ تم سے بھی وہ ذات محبت کرے جس کیلئے تم مجھ سے محبت کرتے ہو۔ 

بھارتی فلمیں اور ہمارا تبدیل ہوتا ہوا کلچر

ثقافت ہماری پہچان ہے یعنی ہم کیسے کپڑے پہنتے ہیں، کیسے نظر آتے ہیں، کیسی گفتگو کرتے ہیں اور جب بات کرتے ہیں یا کوئی فعل سرانجام دیتے ہیں تو ہمارا طریقۂ کار کیا ہوتا ہے۔

بہت سے لوگ شاید اِس بات سے اتفاق نہ کریں لیکن پاکستان کی ثقافت وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ تبدیل ہورہی ہے۔ ہم اپنے لباس اور انداز و اطوار میں بھارتی فلموں کی پیروی کرنے لگے ہیں اور لاہور کی نجی یونیورسٹی میں پیش آنے والا اظہارِ محبت کا واقعہ بھی اسی کی ایک مثال قرار دی جاسکتی ہے۔ 

کھلے عام نامناسب انداز اختیار کرنا جرم

وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ پاکستانی معاشرے سمیت دنیا بھر میں مناسب اور نامناسب میں فرق ختم ہوتا جارہا ہے۔ اگر پاکستان میں کھلے عام کوئی جوڑا بوس و کنار میں ملوث پایا جائے تو اسے گرفتار کر لیا جاتا ہے کیونکہ وہ فحاشی پھیلا رہا ہے۔

انسدادِ فحاشی کے مختلف قوانین تو موجود ہیں لیکن اسلامی جمہوریہ پاکستان میں فحاشی کی تعریف تاحال نہیں کی جاسکی۔ 12 ستمبر 1923ء کے روز جنیوا میں ایک عالمی کنونشن منعقد ہوا جس کی منظور کردہ قرارداد کی پاسداری کیلئے پاکستان نے 1965ء میں فحش نشرواشاعت کا قانون منظور کیا۔

تعزیراتِ پاکستان یعنی قانون میں فحاشی کی کوئی واضح تعریف نہیں ملتی، تاہم قانون کی دیگرکتب میں ایک مبہم تشریح یہ ملتی ہے کہ فحش کا مطلب اخلاق بگاڑنے والی چیز لیا جاسکتا ہے۔ 

تھیٹر، فلموں اور اشتہارات کیلئے فحاشی کے الگ الگ قوانین موجود ہیں۔ صوبائی حکومتیں، اور ضلعی انتظامیہ مفادِ عامہ کے صدارتی آرڈیننس 16 ایم پی او کے تحت فحاشی کے خلاف کارروائی کی مجاز ہیں۔

فلمی زندگی اور حقیقت میں فرق ہے

یاسر حسین، اقراء عزیز یا بھارتی فنکاروں کا کام ڈراموں اور فلموں میں کام کرنا ہے جو ایک ایسی زندگی گزارتے نظر آتے ہیں جس کا عوام کی نظر میں حقیقت میں کوئی وجود نہیں ہے۔

مطلب یہ کہ فلمی زندگی اور حقیقت میں زمین آسمان کا فرق ہوتا ہے، اس لیے حقیقی زندگی میں جب تک آپ خود اداکار یا فنکار نہ بننا چاہیں، اداکاروں کی پیروی سے حتی الوسع اجتناب کرنا چاہئے۔ 

Related Posts