سانحہ گل پلازہ پر سخت سوالات کا سامنا! پی پی رہنما شہلا رضا پروگرام چھوڑ کر چلی گئیں

تازہ ترین

تازہ ترین

(فوٹو؛ فائل)

پیپلز پارٹی کی رہنما شہلا رضا نے آج اے آر وائی نیوز کے پروگرام کے دوران شدید ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے اچانک شو چھوڑ دیا۔ پروگرام کی اینکر نے شہلا رضا کے اسمبلی میں آج دیے گئے بیان کا حوالہ دیتے ہوئے سوال کیا جس پر وہ ناراض ہو گئیں اور پروگرام سے اٹھ کر چلی گئیں۔

شہلا رضا نے کہا کہ ان کے بیان کو توڑ مروڑ کر پیش کیا جا رہا ہے اور اس پر لگائے گئے الزامات کا جواب وہ بعد میں دیں گی۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ پروگرام میں دوسرے مہمانوں کو وقت دینے پر بھی انہیں اعتراض تھا۔

قبل ازیں شہلا رضا نے گل پلازہ سانحہ کے حوالے سے تاریخی تفصیلات بھی بیان کیں۔ انہوں نے بتایا کہ اس عمارت کی بنیاد 1980 میں رکھی گئی تھی اور اس وقت یہاں 1021 دکانیں موجود تھیں۔ 2003 میں مزید دکانوں کا اضافہ کیا گیا جس وقت میئر جماعت اسلامی کے پاس تھے اور ایم کیو ایم نے مشرف حکومت سے اس کی منظوری حاصل کی۔

پیپلز پارٹی کی رکن اسمبلی نے کہا کہ گل پلازہ کا حادثہ ایک بڑا سانحہ ہے اور اس میں حکومت کا احتساب ضروری ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ اس سانحہ پر سیاسی پوائنٹ اسکورنگ نہیں ہونی چاہیے۔

شہلا رضا نے آگ لگنے کے وقت کے حالات بھی بتائے کہ ریکارڈ کے مطابق رات 10 بج کر 26 منٹ پر آگ کی اطلاع ملی اور 4 فائر بریگیڈز 10 بج کر 45 منٹ پر موقع پر پہنچیں۔ آگ پر قابو پانے کے لیے 16 فائر ٹینڈرز، 2 باؤزرز اور 3 اسنارکل استعمال کیے گئے۔ آگ کی شدت اتنی زیادہ تھی کہ گورنر سندھ کامران ٹیسوری نے پاک بحریہ سے بھی امداد طلب کی۔

Related Posts