بھارتی خبر رساں اداروں نے ایک بار پھر سے پاکستان مخالف پروپیگنڈا شروع کردیا۔بھارتی میں اسٹریم میڈیا اور سوشل میڈیا پر یہ دعویٰ سامنے آیا کہ روس کے شہر سینٹ پیٹرزبرگ میں روسی حکام نے پاکستانی انٹیلی جنس (ISI) کا جاسوس نیٹ ورک پکڑ لیا ہے۔
بھارتی میڈیا رپورٹس میں کہا گیا کہ کارروائی کے دوران ایک روسی شہری کو گرفتار کیا گیا جو روس کے ہیلی کاپٹر Mi-8 اور S-400 دفاعی نظام کے دستاویزات اسمگل کرنے کی کوشش میں ملوث تھا۔ اس کہانی کو بھارت میں آپریشن سندور کے ساتھ بھی جوڑا گیا لیکن تحقیق سے معلوم ہوا کہ یہ دعویٰ مکمل طور پر غیر مصدقہ ہے۔
حقیقت کیا ہے؟
یہ دعویٰ صرف بھارتی اخبارات اور ویب سائٹس جیسے اکنامکس ٹائمز، فرسٹ پوسٹ اور ریپبلک ٹی وی میں نظر آیا اور سبھی رپورٹس میں ایک جیسی معلومات تھیں اور صرف ماہرین کے حوالے دیے گئے مگر کوئی روسی یا بین الاقوامی ذریعہ اس کی تصدیق نہیں کرتا ہے۔
روس میں کوئی تصدیق نہیں؛
روسی خبر رساں ایجنسیز ٹی اے ایس ایس، انٹر فیکس، آر ٹی اور کومر سانٹ میں اس طرح کے کسی آئی ایس آئی جاسوس نیٹ ورک کی خبر نہیں ملی۔ یہ ادارے دیگر سیکیورٹی آپریشنز کی رپورٹنگ جاری رکھتے ہیں لیکن پاکستان یا آئی ایس آئی کا کوئی ذکر نہیں ہے۔
کمزور ذرائع؛
بھارتی رپورٹس میں نہ روسی ایف ایس بی یا عدالت کے دستاویزات کا حوالہ ہے نہ کوئی آفیشل پریس ریلیز۔ سب کچھ گمنام ذرائع اور ویب سائٹس کی آپس میں نقل پر مبنی ہے۔
کہانی میں اضافہ؛
آپریشن سندور اور S-400 دفاعی نظام کا ذکر بھارتی رپورٹس میں شامل کیا گیا یہ معلومات روس یا بین الاقوامی ذرائع سے نہیں آئی۔
غیر تصدیق شدہ اور ممکنہ پروپیگنڈا
کسی روسی یا معتبر روسی زبان کے ذریعہ نے آئی ایس آئی جاسوس نیٹ ورک کی تصدیق نہیں کی۔ یہ دعویٰ مکمل طور پر بھارتی میڈیا کے جھرمٹ پر مبنی ہے جس میں سبھی رپورٹس ایک جیسے الفاظ اور گمنام ذرائع استعمال کرتی ہیں۔ یہ ایک منصوبہ بند بیانیے کی تشہیر معلوم ہوتی ہے۔
اہم نکات؛
بھارتی ویب پورٹلز پر ایک ہی طرح کی خبریں 12–24 گھنٹوں میں سامنے آئیں۔
روسی ذرائع کی مکمل غیر موجودگی باوجود ایف ایس بی کے فعال آپریشنز کی رپورٹنگ جاری ہے۔
گمنام ماہرین کا حوالہ اور جغرافیائی سیاسی سیاق و سباق جان بوجھ کر شامل کیا گیا۔
احتیاطی ہدایت؛
آئی ایس آئی کے جاسوسی نیٹ ورک کے حوال سے خبریں فی الحال غیر مصدقہ ہیں۔ جب تک روسی یا بین الاقوامی سرکاری ادارے تصدیق نہ کریں اسے شیئر کرنا یا پھیلانا گمراہ کن ہو سکتا ہے اور جغرافیائی کشیدگی پیدا کر سکتا ہے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








