پاکستان اور افغانستان کے درمیان حالیہ سرحدی کشیدگی کے دوران ایک جانب افغان اور بھارتی ذرائع ابلاغ پاکستان کے خلاف مسلسل پروپیگنڈا میں مصروف رہے تو دوسری طرف پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) سے منسلک بعض سوشل میڈیا اکاؤنٹس بھی ملک مخالف بیانیہ پھیلانے میں شریک نظر آئے۔
افغانستان کی جانب سے ہفتے کو رات گئے پاکستان کی سرحدی چوکیوں پر حملے کے بعد پاک فوج نے فوری اور موثر جوابی کارروائی کی۔ اطلاعات کے مطابق پاک فوج نے دشمن کی کئی چوکیوں پر قبضہ کیا، متعدد افغان اہلکاروں کو ہلاک کیا جبکہ کئی طالبان اہلکار اپنی وردیاں اور ہتھیار چھوڑ کر فرار ہو گئے۔
اسی دوران افغانی اور بھارتی میڈیا نے پاکستان کے خلاف جھوٹے دعوے اور خبریں پھیلائیں جن میں یہ بھی شامل تھا کہ افغان طالبان نے ایک پاکستانی جنگی طیارہ (J-10C) مار گرایا ہے۔ اس دعوے کے ساتھ سوشل میڈیا پر کچھ پرانی ویڈیوز بھی شیئر کی گئیں۔
پی ٹی آئی کے ایک حامی کی جانب سے بھی سوشل میڈیا پر ایسی ہی ایک ویڈیو پوسٹ کی گئی جس میں دعویٰ کیا گیا کہ طالبان نے پاکستانی طیارہ تباہ مار گرایا تاہم تحقیقات سے پتا چلا کہ یہ ویڈیو تقریباً تین سال پرانی ہے اور اس میں جو طیارہ تباہ ہوتا دکھایا گیا ہے وہ بھارت کا مگ-21 تھا جو ایک علیحدہ واقعے میں گر کر تباہ ہوا تھا۔ اسے حالیہ پاک افغان کشیدگی سے جوڑ کر جھوٹ پھیلایا گیا۔
🚨 بریکنگ نیوز
افغان نیشنل آرمی نے ڈیورنڈ لائن کے قریب پاکستانی لڑاکا طیارہ مار گرایا۔
دو پاکستانی پائلٹ ہلاک pic.twitter.com/9cYudvZ3yt— پری زاد (@Parizaad_reborn) October 11, 2025
بین الاقوامی خبر رساں ادارے جیسے الجزیرہ اور روئٹرز نے بھی واضح کیا ہے کہ پاکستانی طیارہ مار گرائے جانے کی کوئی مصدقہ اطلاع موجود نہیں اس لیے یہ دعویٰ بے بنیاد ہے۔
سوشل میڈیا پر یہ سوال اٹھایاجا رہا ہے کہ بھارت اور افغانستان کی طرح اپنے ہی ملک کے خلاف بیانیہ پھیلانے والوں کے خلاف کب کارروائی کی جائے گی؟ عوام کا مطالبہ ہے کہ ایسے عناصر، جو جھوٹی خبروں کے ذریعے ملک کے وقار کو نقصان پہنچا رہے ہیں ان کے خلاف سخت قانونی اقدام ہونا چاہیے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








