جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کا کہنا ہے کہ اگر افغانستان کے ساتھ معاملے خراب ہوئے تو قوم ایک صف میں نہیں ہوگی بلکہ تقسیم ہوجائے گی جبکہ جے یو آئی ف کے رکن قومی اسمبلی مولانا عبدالغفور حیدری نے کہا ہے کہ پاکستان اور افغانی عوام خون کے رشتے سے جڑے ہوئے ہیں اس لیے جنگ کسی صورت دونوں کے مفاد میں نہیں ہوگی۔
سوشل میڈیا پر مولانا فضل الرحمان کی ایک پرانی ویڈیو وائرل ہے جس میں وہ کہتے سنائی دے رہے ہیں کہ بھارت کے خلاف صورتِ حال خراب ہونے پر قوم ایک ہوجائے گی مگر افغانستان کے خلاف ایسا اتحاد پیدا نہیں ہوگا۔ مولانا حامد الحق نے کانفرنس سے خطاب میں کہا کہ صرف نعرے یا بیانات سے قوم متحد نہیں ہوتی ہمیں صورتحال کا گہرا تجزیہ کرناچاہیےاور یہ سمجھنا ہوگا کہ افغان مسئلے پر قوم کھڑی نہیں ہوگی۔
اگر انڈیا کے ساتھ معاملات خراب ہوتے ہیں ، تو قوم ایک صف پر ہوگی اور اگر افغانستان کے ساتھ معاملات خراب ہوتے ہیں تو قوم ایک صف پر نہیں ہوگی۔
قائد محترم کا خدمات مولانا حامد الحق شہید رحمہ اللہ کانفرنس سے خطاب۔ pic.twitter.com/GZ0LLg2qCW— Dr-Ahmad Mustafa (@DrAhmad_Mustafa) October 12, 2025
جے یو آئی ف کے سوشل میڈیا اکاؤنٹ سے جاری بیان میں رکن قومی اسمبلی مولانا عبدالغفور حیدری نے کہا کہ پاکستان اور افغانستان کے عوام بھائی ہیں اور مفاہمت و مذاکرات ہی حل ہیں۔ انہوں نے یہ بھی خبردار کیا کہ اگر جنگ ہوئی تو بھارت کے علاوہ امریکہ بھی کسی حکمت عملی کے تحت عمل میں آ سکتا ہے مثلاً بگرام ایئربیسز کے حصول کے لیے متحرک ہو سکتا ہے۔
پاکستان اور افغانستان کے درمیان جنگ تشویش ناک ہے، دونوں ممالک کے عوام خون کے رشتے سے جڑے ہوئے بھائی ہیں، مفاہمت اور مذاکرات ہی حل ہیں۔
— مولانا عبدالغفور حیدری، مرکزی سیکرٹری جنرل جمعیت علماء اسلام و رکن قومی اسمبلی پاکستانجنوبی کوریا میں قیام کے دوران میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے… pic.twitter.com/8UGdC10ht6
— Ihsan Ullah Khan 🇵🇰 (@IamIhsanMarwat) October 12, 2025
سوشل میڈیا صارفین نے دونوں رہنماؤں کے بیانات پر سخت ردعمل دیا۔ بعض لوگوں نے سوال اٹھایا کہ بھارت میں بھی بہت سے افراد کے خونی رشتے ہیں تو کیا بھارتی جارحیت پر خاموش رہنا درست ہوگا؟ کچھ صارفین نے کہا کہ جو بھی پاکستان کے خلاف بولے یا ملک کو کمزور کرنے کی کوشش کرے، اس کے خلاف کارروائی ہونی چاہیے۔ ایک صارف نے مولانا فضل الرحمان پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ آپ افغانستان کے متاثرین کے بارے میں کیوں نہیں بولتے، وہاں بچوں اور خاندانوں کی تباہی پر خاموشی قابلِ اعتراض ہے۔
مولانا صاحب اپ پاکستان کو تو یہ باتیں سمجھا رہے ہیں پاکستانی فوج کو تو یہ باتیں بتا رہے ہیں لیکن افغانستان کو یہ باتیں کیوں نہیں بتاتے وہ لوگ ہی ا کے اپ کے ہی بچوں کو مار رہے ہیں کئی گھر اجڑ گئے کئی بچے یتیم ہو گئے ان کے بارے میں اپ کے منہ سے لفظ نہیں نکلتا
— پاکستان بچاؤ تحریک (@Mumtazhuss54912) October 12, 2025
ایک اور صارف نے سوال کیا کہ عوام ایک صف پر کیوں نہیں ہوں گی؟ ان کا کہنا تھا کہ لیڈروں کو عوام کی رہنمائی کرنی چاہیے، اگر افغان لیڈرز یا گروہ کسی بیرونی طاقت کے ہاتھوں استعمال ہوں تو پھر لیڈر ریاست کے ساتھ مخلص کیوں نہیں رہتے؟ شدید غم و غصے میں کچھ لوگوں نے کہا کہ جو بھی پاکستان کے خلاف ہوگا اُس کے خلاف سخت کارروائی ہونی چاہیے۔
یہ مولانا کا حیال ہوسکتا ہے ہم عوام کا نہیں ۔جو پاکستان کیخلاف بولیگا پاکستان میں پر حملہ کریگا چاہے وہ مسلم ملک یا مولانا کا پسندیدہ ملک افعانستان ہی کیوں نا ہو ہم اس کی اینٹ سے اینٹ بجادینگے اور مولانا نے دو دن سے دیکھ بھی لیا ہوگا ۔بات حتم
— Azaan پاکستان اور أرمی زندہ باد (@ShaukatAza726) October 12, 2025
مجموعی طور پر سوشل میڈیا پر مباحثہ شدت اختیار کر چکا ہے اور عوام یہ پوچھ رہے ہیں کہ قومی مفاد کو سامنے رکھ کر رہنماؤں کی جانب سے واضح موقف کب آئے گا۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








