فیملی وی لاگنگ کے نام پر بے حیائی کا نیا رجحان، خاتون کے پاؤں چومنے کی شرمناک ویڈیو، سوشل میڈیا پر طوفان

تازہ ترین

تازہ ترین

Family Vlogging Controversy Sparks Public Outrage Over Immorality
ONLINE

پاکستان میں سوشل میڈیا پر فیملی وی لاگنگ کے نام پر پھیلتی ہوئی بے حیائی اور غیر اخلاقی حرکات نے ایک نیا تنازع کھڑا کر دیا ہے جس کے بعد ایک ویڈیو نے انتہائی غم و غصے کی لہر دوڑا دی ہے۔

ویڈیو میں ایک شخص کو خاتون کے پاؤں چومتے ہوئے دکھایا گیا ہے جسے دیکھ کر صارفین نے شدید ردِعمل کا اظہار کیا اور اسے اخلاقی اقدار کی تضحیک قرار دیا۔

رپورٹس کے مطابق سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر حالیہ برسوں میں فیملی وی لاگنگ کے رجحان میں تیزی آئی ہے لیکن اس کے ساتھ ایسے مناظر کا بڑھتا ہوا استعمال بھی دیکھنے میں آ رہا ہے جو معاشرتی اخلاقیات، پردہ اور خاندانی اقدار کے خلاف سمجھے جاتے ہیں۔

بعض افراد اپنی بیویوں کے ساتھ انتہائی نجی لمحے صرف ویوز اور شہرت حاصل کرنے کے لیے عوام کے سامنے پیش کر رہے ہیں۔ کبھی شوہر بیوی کے پاؤں چوم کر ویڈیو بنا رہا ہے، تو کبھی شادی کے بعد بیڈ روم کے مناظر کو کنٹینٹ بنا کر اپ لوڈ کیا جا رہا ہے۔

نہ صرف مرد، بلکہ خواتین بھی اسی دوڑ میں پیچھے نہیں رہیں۔ سوشل میڈیا پر سہاگ رات کے بعد کیے جانے والے کلپس، ڈلیوری کے مکمل ویلاگز اور خاندان کے انتہائی نجی معاملات کو ویڈیوز کی شکل میں عوام تک پہنچانے نے معاشرتی حدود کی تباہی پر سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔

ناقدین کا کہنا ہے کہ شہرت کے پیچھے بھاگتے ہوئے اخلاقی قدریں پس منظر میں چلی گئی ہیں اور خاندانی نجی زندگی مارکیٹ کے ویوز کی نذر ہو رہی ہے۔

 

دوسری جانب شہریوں کے تبصروں میں شدید غم و غصہ دیکھا گیا۔ ایک صارف نے کہا کہ پیسہ پاکستان میں پتہ نہیں کیا کروا رہا ہے، اچھے خاصے لوگ ننگے ہو رہے ہیں اور گھر کی خواتین کو ننگا کر رہے ہیں ۔

کئی صارفین نے اس بات پر افسوس ظاہر کیا کہ کچھ افراد نجی لمحات کو محض کنٹینٹ بنا کر اخلاقی حدیں عبور کر رہے ہیں۔ ایک اور ردِعمل میں کہا گیا کہ صرف فرق یہ ہے کہ یہ شخص کیمرے کے سامنے کر رہا ہے، باقی سب کمرے کے اندر ۔

سوشل ماہرین کے مطابق یہ رجحان معاشرتی بگاڑ اور سوشل میڈیا کی بے لگام دوڑ کا نتیجہ ہے، جس نے خاندانی اقدار اور پردے کے تصور کو سنگین خطرات سے دوچار کر دیا ہے۔

عوام نے حکومت اور متعلقہ اداروں سے مطالبہ کیا ہے کہ سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر اخلاقی حدود سے تجاوز کرنے والے مواد کے خلاف مؤثر ضابطہ کاری کی جائے۔

Related Posts