لاہور:عالمی شہرت یافتہ فنکارہ اور برصغیر میں ملکہ ترنم کے نام سے پہچانی جانے والی گلوکارہ نور جہاں کو دنیا سے رخصت ہوئے 25 سال بیت گئے، گائے گی دنیا گیت میرے سمیت درجنوں ہٹ گیتوں کو آواز دینے والی نور جہاں کو ان کے مداحوں نے زبردست خراجِ تحسین پیش کیاہے۔
تفصیلات کے مطابق ملکہ ترنم نور جہاں 21ستمبر 1925 کو عظیم صوفی شاعر بلھے شاہ کی دھرتی قصور میں پیدا ہوئیں ،انہوں نے اسٹیج اداکاری سے اپنے کیرئیر کا آغاز کیا ۔ملکہ ترنم نور جہاں کا اصل نام اللہ وسائی جو فلمی دنیا کیلئے ناقابلِ قبول ہونے کی بنا پر انہیں نور جہاں کا نام دیا گیا۔سوشل میڈیا صارفین کا ماننا ہے کہ نور جہاں کے گیت ان سے بہتر کوئی نہیں گا سکتا تھا۔
اس کے باوجود آج بھی دنیا ملکہ ترنم کے گیت گا رہی ہے، بلکہ حال ہی میں پاکستان آئیڈل میں ملکہ ترنم کا گایا ہوا گیت “چٹھی ذرا سیاں جی کے نام لکھ دے” ایک نوآموز گلوکارہ حرا قیصر نے گایا اور سوشل میڈیا پر خوب شہرت بھی حاصل کی، بلکہ پاکستان آئیڈل میں حصہ لینے والے دیگر گلوکاروں نے بھی ملکہ ترنم کے گیتوں سے سماں باندھ دیا۔
بے شمار فلموں میں گلوکاری کے ساتھ ساتھ اداکاری میں بھی اپنے جوہر دکھانے والی فنکارہ ملکہ ترنم نور جہاں نے ایک موسیقار گھرانے میں آنکھ کھولی اس لیے موسیقی انہیں وراثت میں ملی تھی۔ ملکہ ترنم نور جہاں نے اپنے فنی کیرئیر کے دوران اردو، ہندی، پنجابی اور سندھی سمیت مختلف زبانوں میں تقریباً 10 ہزار گانے ریکارڈ کرائے جو ایک منفردریکارڈ ہے۔
طویل عرصہ گلوکاری اور اداکاری کے بعد نورجہاں کو اداکاری اور گلوکاری کے شعبے میں ان کی شاندار صلاحیتوں کے اعتراف میں صدارتی ایوارڈ دیا گیا۔انہوں نے 1965 کی پاک بھارت جنگ کے دوران قومی نغمے بھی گائے جو کہ ہماری قومی تاریخ کا ایک اہم حصہ ہیں جن میں اے پتر ہٹاں تے نئیں وکدے جیسا شاہکار گیت بھی شامل ہے۔
یہی نہیں بلکہ ملکہ نور جہاں کی خوبصورت اور کانوں میں رس گھولنے والی آواز کی وجہ سے انہیں ملکہ ترنم کا خطاب ملا ۔میڈم نور جہاں 23دسمبر 2000 کو دل کا دورہ پڑنے سے انتقال کر گئی تھیں اور ان کے انتقال پر پورا ملک سوگوار ہوا۔
ہر سال ان کی برسی کے موقع پر پرنٹ میڈیا میں خصوصی اشاعتیں ہوتی ہیں جبکہ الیکٹرانک میڈیا میں بھی ان کے حالات زندگی اور کیئرئیر پر رپورٹس نشر کی جاتی ہیں۔ بھارت میں لتا منگیشکر اور پاکستان میں نور جہاں نے عوامی شہرت کا وہ معیار حاصل کیا جسے آج تک بے شمار گلوکار حاصل نہ کرسکے۔ ان کی وفات سے پر ہونے والا خلا آج تک پر نہیں کیاجاسکا۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








