نسل پرست خاتون سیاستدان آسٹریلوی سینیٹ میں برقع پہن کر داخل، ہنگامہ برپا

تازہ ترین

تازہ ترین

ننگی ٹانگوں کے ساتھ ٹوپی برقعے میں ڈراما، فوٹو غیرملکی میڈیا

آسٹریلیا کی انتہائی دائیں بازو کی جماعت ون نیشن کی رہنما پولین ہنسن کو سینیٹ میں برقع پہننے پر “نسل پرست” قرار دیا گیا۔

ہنسن نے یہ قابل اعتراض حرکت دو بار کی ہے، پہلی بار اگست 2017 میں اور دوبارہ نومبر 2025 میں، دراصل اس عمل کا مقصد عوامی مقامات پر مکمل چہرے کے اسلامی پردے پر پابندی لگانا ہے۔

24 نومبر 2025 کو ہنسن نے دوبارہ یہی حرکت دہرائی۔ انہوں نے برقع اور دیگر مکمل چہرے کے پردے پر پابندی لگانے کے لیے ایک بل پیش کرنے کی کوشش کی اور جب اسے بلاک کر دیا گیا تو احتجاج کے طور پر دوبارہ برقع پہن کر سینیٹ میں داخل ہو گئیں۔

ہنسن کی اس حرکت سے سینیٹ میں اس وقت شدید غم و غصہ پھیل گیا اور اجلاس معطل کر دیا گیا جب انہوں نے سینیٹ کی صدر سو لائنز کے حکم کے باوجود لباس نہ اتارا۔

مسلمان سینیٹرز اور دیگر افراد نے اس اقدام کو ایک بار پھر “واضح نسل پرستی” اور اسلاموفوبک قرار دیا۔

اس سے قبل 17 اگست 2017 کو ہنسن سینیٹ میں مکمل کالے برقع میں داخل ہوئیں۔ وہ برقعے میں چند منٹ تک بیٹھیں اور پھر سوال و جواب کے دوران ڈرامائی طور پر برقع اتار دیا۔

اس کے بعد انہوں نے اٹارنی جنرل جارج برانڈس سے پوچھا کہ کیا حکومت “قومی سلامتی کے مفاد میں برقع پر پابندی لگانے” کے لیے کام کرے گی؟

برانڈس نے اس عمل کی شدید مذمت کی، اسے “انتہائی ناپسندیدہ اقدام” قرار دیا اور انہیں خبردار کیا کہ آپ ممکنہ طور پر دیگر آسٹریلوی شہریوں کے مذہبی جذبات کو ٹھیس پہنچا رہی ہیں، محتاط رہیں۔

دیگر سینیٹرز، بشمول لیبر اور گرینز پارٹی کے ارکان نے برانڈس کو کھڑے ہو کر داد دی اور ہنسن کے اقدام کو “نمائش” اور “ناشائستہ” قرار دیا۔

ہنسن نے اپنے اقدامات کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ برقع ظالمانہ اور انتہا پسندانہ ہے اور یہ ایک سیکیورٹی رسک ہے۔

Related Posts