بالی وڈ کی دلکش اداکارہ ہیما مالنی اور خوبرو اداکار دھرمیندر کی شادی سن 1980 میں ہوئی تو یہ کوئی عام شادی نہیں تھی کیونکہ دونوں فلمی ستاروں کے ملاپ نے بھارت میں ایک بہت بڑے تنازعے کو جنم دے دیا تھا۔
ہنگامہ ایکسپریس کی رپورٹ کے مطابق دھرمیندر اور ہیما مالنی کی پہلی ملاقات 1970 میں فلم ’تم حسین میں جوان‘ کی شوٹنگ کے دوران ہوئی تھی، دونوں نے فلم میں مرکزی کردار ادا کیا تھا۔
اسی فلم کے سیٹ پر دونوں فنکاروں کی محبت پروان چڑھی اور دھرمندر جو چار بچوں کے والد تھے آخر کار 1980 میں ہیما مالنی سے رشتہ ازدواج میں منسلک ہوئے۔
تاہم ہوا کچھ یوں تھا کہ ہندو روایات کے مطابق مرد ایک شادی کے بعد دوسری شادی اس وقت کرسکتا ہے جب اس کی پہلی اہلیہ سے طلاق ہوچکی ہو یا پھر پہلی اہلیہ کا انتقال ہوگیا ہو۔
ہیما مالنی اور دھرمیندر کی شادی سے پہلے دھرمیندر پرکاش کور نامی خاتون سے شادی کر چکے تھے جس سے ان کے چار بچے سنی، بوبی، اجیتا اور وجیا دیول ہیں۔
ہیما اور دھرمیندر کی شادی کی خبروں کے بعد لوگ یہ جاننے کے لیے متجسس تھے دھرمیندر پہلی اہلیہ پرکاش سے شادی کے باوجود دوسری عورت سے شادی کیسے کر سکتے ہیں؟
اسی اثناء میں یہ افواہیں چل پڑیں کہ دونوں اداکاروں ہیما مالنی اور دھرمیندر نے ہندو مذہب کی رسومات کےباعث شادی میں ہونے والی دشواری کی وجہ سے اپنا مذہب تبدیل کر کے اسلام قبول کر لیا ہے جس کے بعد دونوں نے بذریعہ نکاح شادی کی، کیونکہ اسلام میں مرد کیلئے ایک سے زائد شادیوں کی اجازت ہے۔
ہندو دھرم میں دوسری شادی کی اجازت نہیں

ہیما مالنی کی سوانح عمری ‘ہیما مالنی: بیونڈ دی ڈریم گرل‘ جو رائٹر ‘رام کمل مکھرجی‘ نے لکھی ہے اس میں اداکارہ کی شادی کے حوالے سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ‘ہندو میرج ایکٹ کے تحت دھرمیندر اور ہیما مالنی کی شادی کے ناجائز ہونے کے بارے میں سماج میں شروع ہونے والی چہ میگوئیاں شدت اختیار کر گئیں کیونکہ دھرمیندر پہلے سے شادی شدہ تھے۔
کتاب میں رام کمل مکھرجی نے لکھا ہے کہ اس وقت بھارت بھر میں یہ قیاس آرائیاں جاری تھیں کہ اپنی محبت کو امر کرنے کیلئے دونوں ستاروں نے زندگی کا سب سے بڑا فیصلہ لیتے ہوئے اسلام قبول کیا ہے جس کے بعد اپنا نام بدل کر دلاور اور عائشہ بی رکھ کر 1979 میں نکاح کرلیا۔
کیا واقعی دھرمیندر اور ہیما نے اسلام قبول کیا تھا؟
دھرمیندر اور ہیما مالنی کی اسلام قبول کرنے کی افواہیں سنہ 2004 میں ایک مرتبہ پھر اس وقت واپس آئیں جب دھرمیندر لوک سبھا کے انتخابات میں حصہ لے رہے تھے۔
دھرمیندر کے کاغذاتِ نامزدگی پر سوال اٹھاتے ہوئے اپوزیشن جماعت کانگریس نے نشاندہی کی کہ اپنے اثاثوں کے اعلان کے دوران اداکار دھرمیندر نے صرف پہلی بیوی ‘پرکاش کور ‘کی جائیدادوں کا اعلان کیا ہے اور پیپرز میں کہیں بھی دوسری اہلیہ اداکارہ ہیما مالنی کا ذکر نہیں کیاگیا۔
میڈیا کی جانب سے اداکارہ ہیما مالنی سے پورے تنازع پر بات کرتے ہوئے پوچھا گیا کہ دھرمیندر نے حلف نامے میں آپ کا نام کیوں نہیں دیا؟
سوال کا جواب دیتے ہوئے اداکارہ ہیما مالنی نے کہا کہ یہ ہمارے خاندان کا انتہائی نجی معاملہ ہے جسے ہم آپس میں طے کر لیں گے اسلئے کسی اور کو اس کے بارے میں پریشان نہیں ہونا چاہئے‘۔
اور یوں اداکارہ نے میڈیا کو دیے جانے والے اپنے دو ٹاک بیان میں ٹرولنگ کرنے والوں کو سخت الفاظوں میں شٹ اپ کال دے کر خاموش کروا دیا۔
دھرمیندر کا موقف
اداکارہ ہیما مالنی کی سوانح عمری میں شوہر دھرمیندر کی کہانی کا رخ بھی پیش کیا گیا ہے جہاں پورے معاملے پر دھرمیندر کی جانب سے کیا جانے والا ان کا دفاع بھی شامل ہے جس میں انہوں نے کہاکہ میں نے کبھی اپنا مذہب تبدیل نہیں کیا، مذہب تبدیل کرنے کے تمام تر الزامات بالکل غلط ہے کیونکہ میں اس قسم کا آدمی نہیں ہوں جو اپنے مفادات کیلئے اپنا مذہب تک تبدیل کردے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








