کراچی: ایم کیو ایم رہنما فاروق ستار نے ایف ایچ ایم پوڈکاسٹ میں دھماکہ خیز گفتگو کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ کراچی کو سندھ سے الگ کرنے کی تیاریاں تقریباً مکمل ہو چکی ہیں اور صرف رسوم باقی ہیں،انہوں نے کہا کہ ایک وقت تھا جب گورے انگریز نے برصغیر کو کالونی بنایا تھا اور اب کالے انگریز کراچی کو اپنی کالونی بنانے کے درپے ہیں۔
میزبان عدنان فیصل سے بات چیت کرتے ہوئے فاروق ستار کا کہنا تھا کہ موجودہ طرزِ حکمرانی آمرانہ، جابرانہ اور غیر منصفانہ ہے، جس میں کراچی کے شہریوں کو سندھ کے وسائل سے محروم کرنے کا واضح پیغام دیا جا رہا ہے۔
انہوں نے الزام لگایا کہ زبردستی میئر شپ چھینی گئی، اور انتخابی حلقہ بندیوں میں ایسی ہیرا پھیری کی گئی کہ ایم کیو ایم کے حلقے 90 ہزار ووٹرز پر مشتمل جبکہ مخالفین کے حلقے صرف 15 ہزار ووٹرز پر رکھے گئے، جس سے الیکشن میں برابری کا مقابلہ ناممکن ہو گیا۔
گفتگو کے دوران فاروق ستار نے کراچی میں بڑھتے جرائم کا ذکر کرتے ہوئے کورنگی نمبر 2 کی مارکیٹ میں ہونے والی ڈکیتی کی مثال دی، جہاں 14 ڈاکو مسلح ہو کر متعدد دکانوں کو لوٹنے آئے۔
ایک دکاندار وقاص نے مزاحمت کر کے مارکیٹ کو بڑے نقصان سے بچایا، مگر وہ اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھا۔ وقاص کی شادی کو صرف 8 ماہ ہوئے تھے اور اس کی بیوی 6 ماہ کی حاملہ ہے۔ فاروق ستار نے سوال اٹھایا کہ اس بچے کی کفالت کی ذمہ داری کون لے گا؟
انہوں نے سیاسی جماعتوں سمیت سب کو اپنی غلطیوں کا اعتراف کرنے، عوام سے معافی مانگنے اور نقصانات کے ازالے کے لیے عملی اقدامات اٹھانے پر زور دیا۔
فاروق ستار نے مزید کہا کہ کراچی کے عوام پاکستان کے شہری ہیں، اور انہیں کسی دوسرے ملک کا ڈومیسائل یا شناختی کارڈ رکھنے والے کی طرح نظرانداز کرنا ناقابلِ قبول ہے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








