وفاقی حکومت نے گلگت بلتستان میں ٹیلی کام کمپنیوں کو فائیو جی ٹرائلز کی اجازت دینے کیلئے پالیسی ہدایات کی باضابطہ منظوری دے دی ہے جو اس پہاڑی خطے میں ڈیجیٹل ترقی کی جانب ایک اہم پیش رفت قرار دی جا رہی ہے۔
یہ ہدایات پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی کی جانب سے گلگت بلتستان کونسل کے لیے تیار کی گئی تھیں جنہیں آئین کے آرٹیکل 60(2)(a) اور گلگت بلتستان آرڈر 2018 کے تیسرے شیڈول کی متعلقہ شق کے تحت منظور کیا گیا۔
وفاقی وزیر برائے امورِ کشمیر و گلگت بلتستان اور وزارتِ سیفرون کے انچارج امیر مقام نے اس منظوری کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ یہ اقدام خطے میں ڈیجیٹل تبدیلی کو تیز کرے گا، رابطوں کے نظام کو بہتر بنائے گا اور ترقی کے نئے مواقع پیدا کرے گا۔
انہوں نے مزید کہاکہ 5G ٹیکنالوجی کے آغاز سے سیاحت کو فروغ ملے گا، کاروباری سرگرمیوں میں آسانی آئے گی اور گلگت بلتستان کے دور دراز علاقوں میں مواصلاتی نظام مزید مضبوط ہوگا۔
حکام کے مطابق یہ پیش رفت گلگت بلتستان کے نگران وزیر برائے اطلاعات اور آئی ٹی غلام عباس کی مسلسل کوششوں کا نتیجہ ہے جو وفاقی اداروں اور متعلقہ محکموں کے ساتھ قریبی رابطے میں رہے تاکہ 5G ٹیکنالوجی کے نفاذ کو آگے بڑھایا جا سکے۔
پالیسی ہدایات کی منظوری کے بعد مستقبل میں 5G اسپیکٹرم کی نیلامی کی راہ بھی ہموار ہوگئی ہے جس کے تحت آنے والے مہینوں میں ٹیلی کام آپریٹرز کو گلگت بلتستان میں نئی نسل کی تیز رفتار انٹرنیٹ سروسز متعارف کروانے کا موقع ملے گا۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








