ٹک ٹاک اسٹار فاطمہ جتوئی نے سوشل میڈیا پر ان کے مبینہ لیک شدہ ویڈیو سامنے آنے کے بعد ڈاکٹر عفان قیصر کی جانب سے کردار کشی پر شدید ردعمل دیا ہے۔
سوشل میڈیا پر سامنے آنے والی ویڈیو میں فاطمہ جتوئی نے قرآن پاک ہاتھ میں تھامے ہوئے کہا کہ وہ کسی بھی طرح کی بری عورت نہیں ہیں اور ڈاکٹر عفان پر کردار کشی کے لیے لعنت بھیجتی ہوں۔
واقعہ کیا ہے؟
ایک ویڈیو جو مبینہ طور پر مشہور ٹک ٹاکر فاطمہ جتوئی سے منسلک ہے، آن لائن منظر عام پر آئی ہے، جس نے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر وسیع پیمانے پر بحث کو جنم دیا۔
یہ فوٹیج، جس میں مبینہ طور پر حساس مواد شامل ہے، تصدیق شدہ نہیں ہے اور اس کی اصلیت غیر یقینی ہے۔ اس کے باوجود، ویڈیو تیزی سے پھیل گئی ہے اور صارفین نے اسے فاطمہ جتوئی کے ساتھ جوڑتے ہوئے “6 منٹ 36 سیکنڈ” کا ہیش ٹیگ ٹرینڈ کروا دیا ہے۔
یہ پہلا موقع نہیں جب کسی سوشل میڈیا انفلوئنسر پر اس طرح کے الزامات عائد ہوئے ہوں۔ ماضی میں بھی کئی عوامی شخصیات نے ایسی ویڈیوز کو جعلی یا اے آئی جنریٹڈ قرار دے کر مسترد کیا، جس سے آن لائن پرائیویسی اور ڈیجیٹل منیپولیشن کے بڑھتے ہوئے خدشات سامنے آئے ہیں
دوسری طرف فاطمہ جتوئی کے کئی مداح ان کے حق میں سامنے آئے ہیں اور عوام سے اپیل کی ہے کہ بغیر ثبوت کے کوئی نتیجہ نہ نکالا جائے۔ ساتھ ہی کچھ فیکٹ چیکنگ پلیٹ فارمز نے ویڈیو کو جعلی قرار دے کر دعووں پر مزید شک ظاہر کیا ہے۔
یہ واقعہ ایک بار پھر غلط معلومات، ڈیپ فیک ٹیکنالوجی اور ڈیجیٹل دور میں آن لائن تخلیق کاروں کی حساسیت پر مباحثے کو تازہ کر گیا ہے
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








