خیر پور: صوبہ سندھ کے شمالی علاقے رانی پور میں پیر کے مبینہ تشدد سے 10 سالہ بچی کی ہلاکت کے معاملے پر مرکزی ملزم پیر اسد شاہ کو عدالت میں پیش کردیا گیا، پولیس نے ملزم کے 15 روزہ ریمانڈ کی استدعا کی تاہم عدالت نے 4 روزہ ریمانڈ دے دیا۔
خیرپور میں پیر کے مبینہ تشدد سے 10 سالہ بچی کی ہلاکت کے کیس میں پیر اسد شاہ کو گرفتار کرلیا گیا تاہم پیر کی اہلیہ مقدمہ میں نامزد ہونے کے باوجود گرفتار نہ ہوسکی۔
پولیس نے گرفتار ملزم پیر اسد شاہ کو عدالت میں پیش کیا اور 15 روزہ جسمانی ریمانڈ مانگا تاہم عدالت نے پولیس کی استدعا مسترد کرتے ہوئے ملزم کا 4 روز کا ریمانڈ دیدیا۔
پولیس نے بچی پر تشدد کے الزام میں گرفتار ملزم پیر اسد شاہ کو ریمانڈ ملنے کے بعد ہنگورجہ تھانے منتقل کردیا۔
سندھ میں 10 سالہ ملازمہ فاطمہ کی موت، معاملہ کیا ہے؟
واضح رہے کہ گزشتہ روز پیر کے گھر میں کام کرنے والی کمسن بچی انتقال کر گئی تھی، جس پر پیر نے بچی کے اہل خانہ کو کہا تھا کہ لڑکی کے پیٹ میں درد ہوا جس کے بعد اس کا انتقال ہوگیا۔
سوشل میڈیا پر بچی کے تشدد زدہ جسم کی ویڈیو بھی سامنے آگئی، جس میں بچی کو فرش پر تڑپتے دیکھا جاسکتا تھا اور بچی کی لاش کو بغیرپوسٹ مارٹم دفنا دیاگیا۔
والدہ نے پہلے بچی کی موت کو طبعی قراردیا اور پھرمیڈیا کو بتایا کہ میری اورتین بچیاں پیروں کے پاس تھیں اس لیے سچ چھپایا، والدہ کا کہنا تھا کہ بچی کے جسم پر تشدد کے نشان تھے، صحیح سلامت بچی ان کے حوالے کی تھی کبھی اسے سوئی تک نہیں چبھوئی۔
حویلی کے مالک فاطمہ کی لاش نہیں دے رہے تھے جب بچوں نے شور مچایا تو لاش دی اور معاملہ دبانے کےلیے پچاس ہزار روپے بھی دیے جو نہیں لیے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








